Forum Menu - Click/Swipe to open
 

Maulana Nadeemul Wajidi refutation of Wahiduddin Khan

You have contributed 0.0% of this topic

Thread Tools
Appreciate
Topic Appreciation
abu mohammed
Rank Image
dr76's avatar
Offline
Unspecified
2,175
Brother
5,836
dr76's avatar
#16 [Permalink] Posted on 12th July 2017 10:32
بسم الله الرحمن اللرحيم





ذرا بھی غور کیا جائے تو یہ بات بالکل صاف ہوجاتی ہے کہ خاتم الانبیا ء سرکار دوعالم ﷺ کیوں کہ اللہ کے آخری نبی اور رسول آنے والا نہیں ہے، اس لیے آپ نے اپنی تعلیمات میں اس کا بڑا اہتمام فرمایا ہے کہ قیامت تک امت کو جو مراحل پیش آنے والے ہیں ان کے متعلق ضروری باتیں ارشاد فرمادیں ،ایک طرف تو آپ نے اس کا اہتمام فرمایا ہے کہ ان لوگوں کے بارے میں امت کو بتلادیا جائے جو آپ کے بعد قابل اتناع ہیں، ان میں سے بعض کا ذکر محض اور صاف کے ساتھ ہے اور بعض حضرات کا تذکرہ نام کی تعیین کے ساتھ بھی فرمایا گیاہے، دوسری طرف ان گمراہ لوگوں سے بھی باخبر کردیا گیا جن سے امت کو خطرہ لاحق ہے۔

آپ ﷺ کی وفات کے بعد جو فتنے رونما ہوں گے اور جن سے امت کے دین وایمان کو خطرہ لاحق ہوگا ان میں سب سے بڑا خطرہ دجال سے ہوگا ،احادیث میں فتنہ دجال کے اتنے حالات اور اوصاف بیان مرادئے گئے ہیں کہ جب یہ فتنہ رونما ہوگا تو امت کسی شک میں مبتلا نہیں ہوگی اور اسے صاف پہچان لے گی، اسی طرح بعد میں مصلحین پیدا ہوں گے یا تشریف لائیں گے ان میں سب سے اہم شخصیت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ہوگی جن کو اللہ تعالیٰ نے نبوت ورسالت سے سرفراز فرمایا، اورفتنہ دجال کی سرکوبی کے لیے ادراست کی امانت کے لئے ان کو آسمان میں زندہ رکھا، جب قیامت کے قریب دجال ظاہر ہوگا تب آپ کوبھی آسمان سے زمین پر اتارا جائے گا اور آپ کے ذریعہ دجال کو موت کے گھاٹ اتارا جائے گا ، اس لیے ضرورت تھی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حالات وصفات بھی کھلے طور پر بیان کئے جائیں تاککہ جب وہ نازل ہوں تو کسی انسان کو ان کے پہچاننے میں غلطی نہ ہو۔ اس لیے کہ اگر امت انہیں شناخت نہ کرسکی اور ان کے سلسلے میں تذبذب کا شکار رہی تو ان کے نزول کا مقصد ہی فوت ہوجائے گا، کیوں کہ جس قوم کی نصرت اور مدد کے لیے وہ تشریف لائیں گے اگر وہی قوم ان کو پہچان نہ سکے گی تو وہ کس کی مدد کریں گے اور کس کی دستگیری فرمائیں گے ،یہی وجہ ہے کہ ان کی تشریف آوری آسمان سے علی الاعلان اسلامی حکومت کے دارالخلافہ میں ایسے مقام پر ایسے وقت ہوگی جب سب لوگ کھلی آنکھوں ان کا مشاہدہ کرسکیں گے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حالات کا تفصیلی ذکر اس لیے بھی ضروری تھا کہ اگر ان کے حالات مجمل طور پر بیان کئے جاتے اور علامات مہیمم ہوتیں تو بہت سے لوگ اپنے بارے میں صحیح موعود ہونے کا دعویٰ کربیٹھتے جیسا کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے یہ دعویٰ کیا ہے، اگر حدیث کی کتابوں میں نہایت شرح وبسط کے ساتھ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر نہ ہوتا تو غلام احمد قادیانی کے دعوے کی تردید وتکذیب مشکل ہوجاتی ، علما ء امت نے ان میں علامات کی بنیاد پر اس کے دعویٰ کی تردید کی ہے، حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے نبی اور اس کے رسول ہیں،مگر وہ جس وقت دنیا میں تشریف لائیں گے فرائض نبوت ورسالت پر مامور ہوکر تشریف نہ لائیں گے بلکہ امت محمدیہ کی قیادت وامامت کے لیے بہ حیثیت خلیفۂ رسول تشریف لائیں گے مگر ذاتی طور پر ان کو جومنصب نبوت ورسالت حاصل ہے اس سے معزول بھی نہ ہوں گے ، جس طرح ان کی نبوت سے انکار پہلے کفر تھا اس وقت بھی کفر ہوگا، امت مسلمہ جو پہلے سے ان کی نبوت پر قرآنی ارشاد ات کی بنا پر ایمان لائے ہوئے ہے اگر نزول کے وقت ان کو نہ پہنچانے تو انکا ر میں مبتلا ہوجائے گی اس لیے ضرورت تھی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حالات واوصاف کو واضح طور پر بیان کیا جائے ۔( سلخصا از معارف القرآن :81,80/2)۔

اس تفصیل کا حاصل یہ نکلا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا عقیدہ نہ صرف احادیث مبارکہ سے بلکہ قرآنی آیات سے بھی ثابت ہے، اور اس سلسلے میں ایک سے زائد آیات موجود ہیں جن کے کھلے طور پر نزول عیسیٰ کا عقیدہ ثابت ہوتا ہے ،قرآن کریم میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے تفصیلی ذکر سے بھی یہی حکمت سمجھ میں آتی ہے کیونکہ ان کو دوبارہ تشریف لانا ہے ۔تو اس قوم میں وہ تشریف لائیں گے ان کے سامنے آنے والی شخصیت پوری طرح متعارف ہوجائے تاکہ کسی قسم کا کوئی اشتباہ باق نہ رہے اورکوئی دوسراشخص مسیح نہ بن بیٹھے اوراگرکوئی شخص اس قسم کا جھوٹا دعوی کرنے لگے تو جو اوصاف قرآن کریم میں مذکور ہیں وہ خود ہی اس کی تردید بن جائیں ،جس شخصیت کی آمد کی پیشین گوئی قرآن بھی کررہا ہوں اور زمان رسالت ﷺ سے بھی ان کے نزول کی پیشین گوئی کی گئی ہو اس شخصیت کا انکار کرنا ، یا ان کے نزول کا تمسنزا ڑا نا ، یا ان کے نزول کے واقعے کوحقیقت کے بجائے تمثیل پر محمول کرنا بڑی جسارت کا کام ہے اور یہ کام وہی کرسکتا ہے جسے آخرت کی جواب دہی کا خوف نہ ہو، بلکہ تحقیق کے نام پر واہ واہ لوٹنے کاشوق ہو۔


URL for this article:

www.newageislam.com/NewAgeIslamUrduSection_1.aspx?Article...


END
report post quote code quick quote reply
back to top
Rank Image
abuzayd2k's avatar
Offline
Hindustan
1,057
Brother
164
abuzayd2k's avatar
#17 [Permalink] Posted on 1st March 2021 13:55
Interestingly, Maulana Wajidi Sahab (HA) refers to the scholar as Maulana Wahiduddin Khan, while our dear brother Dr76 refers to him as "the deviant Wahiduddin Khan."
report post quote code quick quote reply
back to top