Forum Menu - Click/Swipe to open
 
Top Members

Ruju' of (Maulvi) Salman Nadvi

You have contributed 0.0% of this topic

Thread Tools
Appreciate
Topic Appreciation
abuzayd2k
Rank Image
Muadh_Khan's avatar
Offline
UK
11,516
Brother
10,060
Muadh_Khan's avatar
#76 [Permalink] Posted on 21st September 2020 18:01
bint e aisha wrote:
View original post


Quote:
You've also not answered my question about the difference between a Shia zakir and a Sunni Maulvi both disrespecting the same Sahabi


Night and day!

It is part of Shia religion to abuse and revile the Sahabah (RA).
It is part of Sunni Aqeedah to honour and respect the Sahabah (RA).

Then it is part of our Aqeedah that we do not curse or invoke curse of Allah Ta'ala on people of Ahlus-Sunnah specifically but we condemn their actions. This Aqeedah is manifested in the direct Hadeeth of Nabi (Sallallaho Alaihe Wassallam).

Loading Hadeeth

  1. The evidence quoted by you to CURSE Maulana Salman Nadwi (HA) is "Munkar Hadeeth"
  2. The evidence being followed by me not to CURSE Maulana Salman Nadwi (HA) is "Authentic Hadeeth"
  3. Thus, I do not want to invoke "Curse of Allah" upon him


I am under no obligation in Islam or by Allah to DISOBEY Authentic Hadeeth to invoke a Curse. I am expressly forbidden in Islam curse specific Sunni Ulama on errors and mistakes.

You know it, you understand it.
You know that you are wrong, you understand that you are wrong.

But you will keep on arguing because your ego will not let you admit your error even when your understanding violently collides with the Aqeedah of Islam and principles of Qur'aan and Sunnah. A "Muslim" by nature will back down when their understanding collides with the Qu'raan and Sunnah, you usually don't.

Your ego won't let you.

The issue here isn't cursing an act but cursing a specific person who may or may not have retracted what he said.
report post quote code quick quote reply
back to top
Rank Image
muslimman's avatar
Offline
Unspecified
159
Brother
141
muslimman's avatar
#77 [Permalink] Posted on 22nd September 2020 03:40
abuzayd2k wrote:
View original post


I have no problem with writing "Maulvi" or even "Maulana" with his name. There are more deviant people than Maulana Salman Nadvi and our Ulama use the title "Maulana" for them.

I am not a knowledgeable person, but my understanding tells me that a scholar's "Ilm" does not amount to much if they start criticizing the Sahaba. Having Ilm of Deen minus the correct aqeedah and ideology is not worth much.
Maybe someone with more knowledge such as Muadh Khan can correct me if I am wrong.
report post quote code quick quote reply
back to top
Rank Image
muslimman's avatar
Offline
Unspecified
159
Brother
141
muslimman's avatar
#78 [Permalink] Posted on 22nd September 2020 04:16
Muadh_Khan wrote:
View original post


Brother,

Mufti Adnan Kakakhel (HA) may have erred in his tweet. Let's put that behind us.

The fact remains that when Sunni Ulama do not promote the correct belief of the Ahlus Sunnah Wal Jamaah regarding the Sahaba, the ordinary Sunni Muslims get confused. bint e aisha sister has raised a valid point that a Sunni layman will not be affected by the nonsense and kufriyaat of a Shia zakir however it is very likely that doubts may form regarding some Sahaba such as Hazrat Muawiya رضي الله عنه because of the bayans of Ulama such as Maulana Salman Nadvi.

The importance of calling out Maulana Salman Nadvi can not be underestimated. The ulama should be doing it (not laypeople like us), and they probably are, but it is a job that needs to be done.

To be honest, even if bint e aisha or Mufti Adnan Kakakhel are going over the top, it is probably a better attitude than being complacent. Please correct me if I made a mistake.

P.S: The thoughts I mentioned in this post are not meant to disagree with you, or challenge you, so please don't take it as an attack.
report post quote code quick quote reply
back to top
Rank Image
bint e aisha's avatar
Offline
Unspecified
2,248
Sister
1,821
bint e aisha's avatar
#79 [Permalink] Posted on 22nd September 2020 09:11
muslimman wrote:
View original post

Yes we should rather follow Ulama than the mujtahideen on this forum.

The post below is in Urdu, apologies to the English speakers.


*[حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ: علمائے احناف کی نظر میں]*
.............

1-علامہ بدرالدین عینی حنفی:(م:855ھ):

"اہل سنت والجماعت کا بر حق موقف یہ ہے کہ صحابہ کرام کے اختلافات سے کنارہ کشی اختیار کیا جائے، ان سے حسن ظن رکھا جائے اور ان کے لیے عذر تلاش کیا جائے، اور یہ کہ وہ لوگ مجتہد تھے، کسی معصیت کا قصد کیا اور نہ ہی دنیا داری کا۔" (عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری)

1-علامہ ابن ہمام حنفی(م861ھ):

"حضرت معاویہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہما کے درمیان جو واقعات پیش آئے ان کی بنا اجتہاد پر تھی اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی امامت کے بارے میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے کوئی تنازعہ نہ تھا۔" ( المسایرۃ:،ص:۳۱۴)

3-ملا علی قاری(م:1014ھ):

"حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ عادل اور صاحب فضیلت صحابہ کرام میں سے ہیں اور ان کا شمار اخیار صحابہ میں ہوتا ہے۔" ( مرقاۃ المفاتیح،ج:۱۱،ص:۲۷۲)

4-حضرت مجدد الف ثانی (م:1034ھ):

"اور قوم (یعنی علمائے اہل سنت ) کی کتابیں خطائے اجتہادی کے اقوال سے بھری ہوئی ہیں جیسا کہ امام غزالی اور قاضی ابو بکر باقلانی رحھمہما اللہ کی تصریحات سے واضح ہیں ، پس حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ جنگ کرنے والوں کو فاسق یا گمراہ قرار دینا جائز نہیں ہے۔" (مکتوبات امام ربانی ،دفتر اول مکتوب 251)

5-علامہ شہاب الدین خفاجی(م:1069ھ):

" جو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر طعن کرے وہ جہنمی کتوں میں سے ایک کتا ہے۔" ( نسیم الریاض شرح شفا للقاضی عیاض (خفاجی) ص:۴۷۵)

6-شاہ ولی اللہ محدث دہلوی(م:1176ھ):

" معلوم ہونا چاہیے کہ معاویہ بن ابی سفیان جناب نبی کریم ﷺ کے اصحاب میں سے ہیں اور فضیلت جلیلہ کے حامل اصحاب میں شامل ہیں، خبردار ! معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں بدگمانی نہ کرنا اور سب و طعن کے چکر میں پڑ کر حرام فعل کا ارتکاب نہ کرنا" (ازالۃ الخفا عن خلافۃ الخلفا ،ص۱۴۶)

7-علامہ ابن عابدین(م:1252ھ):

"صحابہ کرام کے درمیان رونما ہونے والے نزاعات میں ہم سکوت اختیار کریں گے کیوں کہ یہ اجتہادی مسئلہ تھا ، اور یہی صحابہ کرام، تابعین اور ائمہ مجتہدین سمیت اہل سنت والجماعت کا موقف ہے۔" ( تنبیہ الولاۃ والحکام علی احکام شاتم خیر الانام)

8-حضرت خواجہ شمس العارفین(م:1300ھ):

" حضرت علی اور حضرت امیر معاویہ کے درمیان جو نزاع اور خصومت واقع ہوئی وہ ازروئے اجتہاد تھی، کسی عناد کی بنا پر نہیں، پس درویش کو چاہیے کہ ان حضرات صحابہ کرام کے حق میں کچھ نازیبا کلام ہرگز نہ کرے۔" (مرأۃ العاشقین در ملفوظات حضرت اعلی خواجہ شمس العارفین ، ص:۱۰۹)

9-مولانا اشرف علی تھانوی(م1362ھ):

" حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ خود صحابی ہیں اور ایک صحابی کے فرزند ہیں ، ان کے صحابی ہونے اور ان کی فضیلت اور شان میں کسی کو کلام نہیں مگر کہ وہ شخص رافضی ہو۔" (فتاوی امدادیہ ،ص۱۲۳)

10-مولانا حسین احمد مدنی (م:1957ء):

"ائمہ اہل سنت والجماعت مشاجرات صحابہ کو ‘‘خطائے اجتہادی’’ قرار دیتے ہیں". (مکتوبات شیخ الاسلام، ج:۳۔ ص:۴۳)

11مولانا امین احسن اصلاحی(م:1997ء):

" جب سیدنا عثمان غنی ،سیدنا امیر معاویہ اور اکابر بنی امیہ سے متعلق تاریخی کتابوں میں یہ پاکیزہ مواد بھی موجود ہے تو آخر اس کو نظر انداز کر کے بعض لوگوں نے صرف اس مواد کو جمع کرنے کی کوشش کیوں فرمائی جس سے ان جلیل القدر صحابیوں کی تنقیص ہو سکے، آخر یہ مطالعہ تاریخ کا کون سا انداز ہے کہ غلاظت پسند مکھی کی طرح صرف انہی گندے چھینٹوں پر آدمی کی نظر پڑے جو کسی مفتری نے ہمارے پاکیزہ خصائل اسلاف کے دامن پر اڑائے ہوں"(سیدنا معاویہ شخصیت اور کردار از حکیم محمود احمد ظفرسیالکوٹی ،ج:۲، ص:۱۰)

12-مولانا مفتی محمد تقی عثمانی:

"حضرت معاویہ ان جلیل القدر صحابہ میں سے ہیں جنہوں نے آںحضرت ﷺ کے لیے کتابت وحی کے فرائض انجام دیے ، حضرت علی کی وفات کے بعد ان کا دور حکومت تاریخ اسلام کے درخشاں زمانوں میں ہے جس میں اندرونی طور پر امن و اطمینان کا دور دورہ بھی تھا اور ملک سے باہر دشمنوں پر مسلمانوں کی دھاک بیٹھی ہوئی تھی لیکن حضرت معاویہ کے مخالفین نے ان پر اعتراضات و الزامات کا کچھ اس انداز سے انبار لگایا ہے کہ تاریخ اسلام کا یہ تابناک زمانہ سبائی پروپیگنڈے کے گردو غبار میں روپوش ہو کر رہ گیا ہے". (معاویہ اور تاریخ حقائق، ص:۵)


*******


ابراہیم بن میسرہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کو کبھی نہیں دیکھا کہ کسی کو خود مارا ہو مگر ایک شخص جس نے حضرت معاویہؓ پر سبّ و شتم کی، اس کو انہوں نے خود کوڑے لگائے. ( رواہ اللالکلائی) ذکرہ ابن تیمیہ فی الصارم المسلول.


*******

سأل رجل المعافی بن عمران فقال: یا ابا مسعود ! این عمربن عبدالعزیز من معاویۃ؟ فغضب من ذلک غضبا شدیداوقال: لا یقاس باصحاب رسول اللہﷺ احد ! معاویۃ صاحبہ وصھرہ وکاتبہ وامینہ علی وحی اللہ عزوجل ،وقد قال رسول اللہﷺ: دعوا لی اصحابی واصھاری فمن سبھم فعلیہ لعنۃ اللہ والملائکۃ والناس اجمعین ،وفی روایۃ فغضب وقال: یوم من معاویۃؓ افضل من عمر عبدالعزیز عمرہ ،ثم التفت الیہ فقال: تجعل رجلاً من اصحاب محمدﷺ مثل رجل من التابعین

ایک آدمی نے حضرت معافی بن عمرانؒ سے پوچھا: حضرت معاویۃؓ کے مقابلے میں عمربن عبدالعزیز کا کیا مقام ہے ؟اس بیہودہ سوال پرحضرت معافیؒ شدید غضبناک ہوئے اور فرمایا: حضورﷺ کے(کسی ادنی سے ادنی) صحابی کی بھی بعد کا کوئی(بڑے سے بڑابھی) برابری نہیں کرسکتا،درآنحالیکہ حضرت معاویۃؓ تو آپؑ کے صحابی ہونے کے ساتھ ساتھ آپؑ کے سسرالی رشتہ دار ،اللہ کی وحی قرآن پرآپؑ کے کاتب و امین بھی ہیں اور حضورﷺ کا ارشاد گرامی ہے :میرے صحابہ اور میرے سسرالی رشتہ داروں کو میرا لحاظ کرتے ہوئے برا کہنا چھوڑ دو ،اور اگر کوئی انھیں برا کہے گا اس پر اللہ کی ،فرشتوں کی اور تمام انسانوں کی لعنت و پھٹکار ہوگی ،
اس کے بعد حضرت معافیؒ نے فرمایا: حضرت معاویۃؓ کا ایک دن عمربن عبدالعزیزؒ کی ساری زندگی سے افضل ہے ،پھر آپ سوال کرنے والے کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: کیا تو کسی تابعی کو حضورﷺ کے صحابی کے برابر لا کھڑا کرنا چاہتا ہے ۔
(مختصر تاریخ دمشق ج۲۵ص ۷۴)


*******


قال الفضل بن زیاد: سمعت ابا عبداللہ سئل عن رجل تنقص معاویۃ و عمرو بن العاص، ایقال لہ رافضی؟ فقال: انہ لم یجتر علیھما الا ولہ خبیئۃ سوء، مانتقص احد احداً من اصحاب رسول اللہﷺ الا ولہ داخلۃ سوء

فضل بن زیاد کہتے ہیں: کسی نے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ جو آدمی حضرت معاویۃ اور عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کی تنقیص کرے کیا اسے رافضی کہہ سکتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: بیشک اس(ظالم) نے ان دونوں صحابہ کی تنقیص کی جرأت صرف اس لئے کی کہ اس کے باطن میں بدی چھپی ہوئی ہے، کوئی بھی (مسلمان) کسی بھی صحابی کی تنقیص اس وقت تک نہیں کرسکتا جب تک کہ اس کے باطن میں بدی نہ گھر کرجائے
(البدایۃ والنہایۃ ج١١ ص ٤٥٠)


*******


امام مسلمؒ کے استاذ امام ابو زرعہ عراقیؒ فرماتے ہیں :

"جب تم کسی شخص کو دیکھو کہ وہ کسی صحابی کی تنقیص کررہا ہے تو سمجھ لو کہ وہ زندیق ہے اس لیے کہ ہمارے نزدیک رسول اللہﷺ حق ہیں، قراٰن حق ہے، قراٰن و سنت ہم تک پہنچانے والے یہی صحابہ کرامؓ ہیں، یہ تنقیص کرنے والے ہمارے گواہوں کو مجروح کرنا چاہتے ہیں، تاکہ کتاب و سنت کو باطل کریں ، لہذا خود ان کو مجروح کرنا زیادہ مناسب ہے، یہ زندیق ہیں."
( الکفایہ ، خطیب بغدادی ، ص ۴۹ حیدرآباد ، دکن )
ماخوذ از مقالاتِ نعمانی ، حضرت مولانا مفتی ابوالقاسم صاحب نعمانی بنارسی مہتمم دارالعلوم دیوبند.
report post quote code quick quote reply
back to top
Rank Image
Muadh_Khan's avatar
Offline
UK
11,516
Brother
10,060
Muadh_Khan's avatar
#80 [Permalink] Posted on 22nd September 2020 12:52
muslimman wrote:
View original post


The issue IS invoking Curse of Allah Ta'ala upon a Sunni Alim. She is insisting that we stand by her ridiculous assertion when it clashes with the Aqeedah of Ahlus-Sunnah Wal-Jamaat, we do not invoke Curses of Allah Ta'ala upon Ahlus-Sunnah Wal-Jamaat like passing out candies!

The issue IS NOT whether he made an error and a huge error at that.

We SHOULD condemn his opinions and forcefully and DEFEND the honour of Sahabah (RA).

Understand the issue and then argue and present your evidence in the light of Qur'aan and Sunnah.
report post quote code quick quote reply
back to top
Rank Image
bint e aisha's avatar
Offline
Unspecified
2,248
Sister
1,821
bint e aisha's avatar
#81 [Permalink] Posted on 23rd September 2020 19:11
“Ḥadhrat Mu’āwiyah [Radhiyallāhu ‘Anhu] and the Historical Realities”



Foreword by Mufti Ebrahim Desai Sahib (Hafidhahullah)


A loyal child is ultra-sensitive to the dignity of his father. If his father becomes a victim of undue humiliation, he would stand up to the occasion to defend the dignity and honour of his father.

We are the spiritual children of the great and illustrious Ṣaḥābah of Rasullullah (Ṣallallāhu ‘Alayhi Wasallam). We are aware of their great sacrifices for Dῑn. They earned and own an honourable position in Islām.

Every year, during the occasion of ‘Āshura and in general, the honourable Sahabah (Radhiyallāhu ‘Anhum) are vilified. On this occasion, in context of the incident of Karbalah, the personality of Ḥadhrat Mu’āwiyah (Radhiyallāhu ‘Anhu) is the greatest target of attack.

There was a great need to highlight the great and illustrious personality of Ḥadhrat Mu’āwiyah Radhiyallāhu ‘Anhu and inculcate within us an admiration and reverence for him.

Moulānā Mu’ādh Chati is a student of the Dārul Iftaa. Allah has blessed him with great talents. He received a question on Ḥadhrat Mu’āwiyah Radhiyallāhu ‘Anhu and the Shῑ’ahs. In his response, he translated Moulānā Maḥmūd Ashraf’s book on the subject from Urdu. The work extensively highlights the many aspects of the life of Ḥadhrat Mu’āwiyah Radhiyallāhu ‘Anhu.

I urge you to read this booklet on this occasion and circulate it as much as possible.

May Allah accept the efforts of Moulana Mu’ādh. May the Ummah benefit from his knowledge and efforts. Ameen.

Read here
report post quote code quick quote reply
back to top