شوال المکرم 1441ھ کے چاند کی پیدائش عالمی معیاری وقت کے مطابق بروز جمعہ 22 مئی 2020 کو 17:38 GMT/UT پر اور پاکستانی معیاری وقت کے مطابق جمعہ و ہفتہ کی درمیانی شب 10:38 پر ہوگی ۔
جمعہ 22 مئی 28 رمضان المبارک کی شام پاکستان میں چاند سورج سے پہلے غروب ہوگا اور اسکی ولادت بھی غروب آفتاب کے بعد ہوگی ۔ (لہذا نظر آنا ناممکن ہے)
پوسٹ میں دیکھیں 22 مئی کو تمام شہروں میں چاند کی بلندی کےدرجات منفی میں ہیں کیوں کہ غروب کے وقت چاند افق سے نیچے ہوگا اور سورج سے پہلے غروب ہوگا ۔۔۔
پاکستان میں ہفتہ 29 رمضان المبارک 23 مئی 2020 کی شام پاکستان میں چاند نظر آنے کا انتہائی معمولی ومشتبہ امکان ہے..
یہ انتہائی معمولی و مشتبہ امکان صرف اور صرف جنوبی پاکستان (مثلا صوبہ سندھ و بلوچستان) میں ہے اور وہ بھی صرف بعض معیارات کے مطابق ۔ ۔ ۔
اگر چاند نظر نہ آیا تو عید الفطر پاکستان میں ان شاء اللہ 25 مئی بروز پیر ہوگی.
23 مئی بروز ہفتہ 29 رمضان المبارک کی شام چاند کی عمر پاکستان میں زیادہ سے زیادہ 21 گھنٹے ہوگی۔ ملک کے اکثر شہروں میں چاند غروب آفتاب کےبعد 39 تا 40 منٹ تک افق پر رہے گا لیکن پھر بھی نظر آنے کا امکان کیوں انتہائی معمولی ہے ؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ صرف فرق غروبین کے زیادہ ہونے سے ہی چاند نظر آنے کا امکان زیادہ نہیں ہوتا بلکہ چاند کی عمر اور روشن حصہ اور افق سے بلندی اور سورج سے زاویائی فاصلہ Elongation بھی دیکھا جاتا ہے لہذا 23 مئی کے چاند میں ان دیگر عوامل میں کمی کی وجہ سے کھلی آنکھ سے چاند نظر آنا انتہائی مشکل ہے۔۔
نوٹ : پوسٹ مین دئے گئے مقامات میں چاند کے احوال پر غور کریں ان مقامات کا انتخاب اس لئے کیا گیا ہے کہ اسلام آباد اور پشاور پاکستان کے شمالی علاقے ہیں جہاں چاند کے احوال اکثر پاکستان کے جنوبی علاقے کراچی اور جیوانی کے بنسبت ناقص ہوتے ہیں ۔ جیوانی بلوچستان کا شہر ہے یہ پاکستان کا انتہائی جنوب مغربی علاقہ شمار ہوتا ہے جہاں چاند کے احوال پورے ملک کے بنسبت زیادہ بہتر ہوتے ہیں اسی وجہ سے مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی پاکستان جیوانی سے چاند کی گواہی کا انتظار کرتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس کو پوسٹ میں شامل کیا گیا ہے تاکہ پاکستان میں کم سے کم اور زیادہ سے زیادہ چاند کے امکان کو واضح کیا جاسکے ۔۔
نوٹ: یہ پوسٹ جامعة الرشید کراچی کے شعبہ فلکیات کے رکن مولانا اسد اللہ شہباز صاحب کی تصدیق کے بعد شیئر کی گئی ہے ..
رؤیت ہلال، فلکیات، جغرافیہ اور خلائی سائنس کی اپ ڈیٹس اور مفید معلومات کےلئے ہمارا پیج لائک کرنا نہ بھولیں :
www.facebook.com/royatehilalupdates