



دارالعلوم دیوبند کے نصاب کو درس نظامی کا نام دیا جاتا ہے، جو کسی حد تک صحیح کہا جاسکتا ہے۔ لیکن کچھ لوگوں کو اس نام سے یہ غلط فہمی ہوتی ہے کہ یہ نصاب بعینہ بارہویں صدی ہجری کاہے، حالاں کہ حقیقت یہ ہے کہ اگرچہ دارالعلوم کے اس نصاب کی بنیاد وہی درس نظامی تھا جو قیام دارالعلوم کے وقت عموماً ہندوستانی مدارس و درس گاہوں میں رائج تھا، لیکن دارالعلوم کے قیام کی ابتدا ہی سے درس نظامی جوں کا توں کبھی بھی نصاب نہیں رہا اور بعد میں حالات کے تقاضے کے پیش نظر اس میں تبدیلیاں ہوتی رہیں۔ اگر کوئی شخص ملانظام الدین کے درس نظامی کا آج کے دارالعلوم دیوبند کے نصاب سے موازنہ کرے تو اسے دارالعلوم کے نصاب کو درس نظامی کا نام دینے میں بھی ہچکچاہٹ ہوگی؛ کیوں کہ اس میں علوم عالیہ کے ساتھ علوم آلیہ کی کتابوں میں بنیادی تبدیلیاں کی گئی ہیں، درس نظامی کی متعدد کتابوں کو بالکل نکال کر دوسری کتابوں کا اضافہ کیا گیا ہے، جب کہ بہت سے موضوعات کی کتابوں کو بدل دیا گیا ہے۔ نصاب دارالعلوم میں زمانہ کے تقاضوں کے مطابق تغیرو تبدل اور حذف و اضافہ کا عمل مسلسل جاری ہے۔ علوم دینیہ کے ساتھ عصری علوم اور معاشی ضرورتوں کا بھی لحاظ رکھاجارہا ہے۔ دارالعلوم میں دارالصنائع ، شعبہٴ کمپیوٹر ، شعبہٴ انگریزی و شعبہٴ صحافت اسی مسلسل عمل کا ایک حصہ ہیں۔
...The syllabus of Darul-uloom is called "Dars-e-Nizami" which is correct to a certain extent. However, this puts doubts and misgivings in the minds of people that this syllabus is from the 12th century. If someone was to compare the syllabus today to what was proposed (originally) then he would be reluctant to call it "Dars-e-Nizami" because there have been a number of (fundamental) changes in the Islamic as well as Secular subjects. The amendments to the syllabus have continued and will continue according to the needs of the times, and these are Islamic as well as social and communal needs of the people. The industrial workshop (metallurgy), computer and English departments at Darul-uloom Deoband are a part of this continuous process of improving and adapting the curriculum to changing needs and times...




This cannot be undone and I am sure it will be greatly appreciated.
Please wait...