Forum Menu - Click/Swipe to open
 

Singing of indian national anthem

You have contributed 0.0% of this topic

Thread Tools
Appreciate
Topic Appreciation
To appreciate this topic, click 'Appreciate Topic' on the right.
Rank Image
umm-e-abdullah's avatar
Offline
Unspecified
184
Sister
262
umm-e-abdullah's avatar
#1 [Permalink] Posted on 11th August 2018 11:18
Assalam alaikum. Can anyone enlighten me on how correct it is to sing the indian national anthem? It has a line which says bharat bhagya vidhata. If im not wrong does it not mean bhaarat( india) is the dispenser of fortune nauzubillah? Even in indian schools here in dubai they have the indian national anthem sung just before the school starts.
report post quote code quick quote reply
back to top
Rank Image
abu mohammed's avatar
London
23,426
Brother
10,091
abu mohammed's avatar
#2 [Permalink] Posted on 11th August 2018 11:50
Is it permisible to chant “BANDE MATARAM” and also sing “BHARAT O BHAGYA BIDHATA” which are our national anthem and national song?
Answer

(Fatwa: 385/358=B/1430)


Vande Matram has some couplets containing beliefs against Islamic creed i.e. shirk (associating partner to Allah). The Indian land was depicted to be God and to be worshipped, this is against our creed of Tauheed (oneness of Allah). Therefore, Muslim children should avoid hymning it. We are ancient inhabitants of India, we love our country, but we do not worship it, Islam allows worshipping Allah alone, a Muslim worships none other than Allah.
Allah (Subhana Wa Ta’ala) knows Best

Darul Ifta,
Darul Uloom Deoband
report post quote code quick quote reply
back to top
Rank Image
abu mohammed's avatar
London
23,426
Brother
10,091
abu mohammed's avatar
#3 [Permalink] Posted on 11th August 2018 12:03
Quote:
Bharoto Bhagyo Bidhata (Bengali: ভারত ভাগ্য বিধাতা; Devanagari: भारत भाग्य विधाता Bhārata Bhāgya Vidhātā "Dispenser of the destiny of India") is a five-stanza Brahmo hymn in Bengali language dedicated to Supreme divine God or Para Brahman who is the dispenser of the destiny of India. It was composed and scored in a highly Sanskritized Bengali by Nobel laureate Rabindranath Tagore in 1911. The first stanza of the song has been adopted as the National Anthem of India.

Banned in many places inside and outside of India due to its meaning.
report post quote code quick quote reply
back to top
Rank Image
Muadh_Khan's avatar
Offline
UK
11,537
Brother
-9,867
Muadh_Khan's avatar
#4 [Permalink] Posted on 11th August 2018 12:05

abu mohammed wrote:
View original post

This answer is not accurate, they have focussed on Vande-Matram which is not the National Anthem.

I have checked with Indian Ulama and they don't know of any Fatwa prohibting it and it is commonly sang in India but we are looking for a Fatwa which states it is permissable or forbidden.

Jana-gana-mana-adhinayaka jaya he
Bharata-bhagya-vidhata

We hail you, O ruler of people's hearts,
and the decider of India's destiny.


report post quote code quick quote reply
back to top
Rank Image
Muadh_Khan's avatar
Offline
UK
11,537
Brother
-9,867
Muadh_Khan's avatar
#5 [Permalink] Posted on 11th August 2018 12:22

umm-e-abdullah wrote:
View original post

 

Permissable according to Mufti Nadeem Al-Wajidi and analysis as follows:

"بھارت بھاگیہ ودھاتا"

ہندوستان کے قومی ترانے "جن گن من" کے تعلق سے دینی حلقوں میں ایک نئی بحث کا آغاز ہوا ہے۔ یوں تو پہلے بھی کبھی کبھار لوگ اس ترانے کے مفہوم، اور اس کے پڑھنے کی شرعی حیثیت کے تعلق سے سوال کیا کرتے تھے، لیکن اس سال پندرہ اگست کے موقع پر یوپی کی زعفرانی حکومت نے جب سے اہل مدارس کی حب الوطنی جانچنے کے لیے مدارس میں قومی ترانہ گانے کا سرکیولر جاری کیا ہے، اس بحث نے شدت پکڑلی ہے۔ دو روز سے سوشل میڈیا پر ہندوستان کے ایک موقر سلفی ادارے جامعہ سلفیہ کا فتوی بھی گردش کررہا ہے جس میں اس ترانے کے شرکیہ ہونے کی صراحت کی گئی ہے۔ ذیل میں ہم نے اس ترانہ ہندی کے تعلق سے کچھ تاریخی حقائق کنگھالنے کی کوشش کی ہے۔

آزادی کے بعد جب قومی ترانے کے تعلق سے بحث شروع ہوئی تو وندے ماترم کو قومی ترانہ قرار دیے جانے کی پر زور مہم چلائی گئی، لیکن مسلمانوں کے اعتراض کی بناء پر اس کو خارج کردیا گیا۔ علامہ اقبال کا "سارے جہاں سے اچھا" بھی زیر غور آیا لیکن علامہ کے معمار پاکستان اور دو قومی نظریہ کے حامی ہونے کی وجہ سے ان کا ترانہ اپنی ظاہری وباطنی خوبصورتی کے باوجود ملک کا ترانہ نہ بن سکا۔ بالآخر 24 جنوری 1950 کی قانون ساز اسمبلی میں ہندوستان کے پہلے صدر راجندر پرساد نے بیان دیتے ہوے جن گن من کو قومی ترانہ قرار دیا اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ "اگر ضرورت پڑے تو حکومت اس ترانے میں حذف و اصافہ بھی کرسکتی ہے"۔ اس طرح ملک کو رابندر ناتھ ٹیگور کا تخلیق کردہ قومی ترانہ ملا۔

ٹیگور کا یہ ترانہ سب سے پہلے 27 دسمبر 1911 کو انڈین نیشنل کانگریس کے کلکتہ اجلاس میں پڑھا گیا۔ اس وقت برطانوی بادشاہ جارج پنجم ہندوستان کے دورے پر تھا، لہذا اجلاس کی اسی نشست میں بادشاہ کے لیے استقبالیہ تجویز بھی منظور ہوئی۔ 28 دسمبر کو برطانیہ کے اخبار "اسٹیٹس مین" نے یہ خبر لگائی کہ "بادشاہ کے استقبال میں بنگلہ شاعر ٹیگور نے استقبالیہ نظم کہی" برطانوی استعمار کے زیر اثر چلنے والے دیگر اخبارات نے بھی اسی طرح کی رپورٹنگ کی تاکہ یہ ثابت کیا جاسکے کہ ٹیگور بھی "استعمار حامی" ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان میں آج بھی خود ہندؤں میں یہ بحث وقتا فوقتاً اٹھتی رہتی ہے۔ ماضی قریب میں کلیان سنگھ اور جسٹس کاٹجو اس موضوع کو ہوا دے چکے ہیں۔

اس کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ برطانوی اخبارات نے اس اجلاس کی رپورٹنگ کرتے ہوے اس دجل وفریب سے کام لیا جس کا ہم آج ہر روز مشاہدہ کرتے ہیں۔ اس لیے کہ بادشاہ کے استقبال میں جو گانا پڑھا گیا تھا وہ ہندی میں رامبوج چودھری نے لکھا تھا، اس کے پہلے شعر کا آغاز "وہ بادشاہ ہمارا" سے ہوتا ہے۔ (امرتا بازار پتریکا، 28 دسمبر1911)

اب آئیے دیکھتے ہیں کہ کیا واقعی یہ ترانہ شرکیہ کلمات پر مبنی ہے۔ اس بات کو ثابت کرنے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ خود ٹیگور کا مذہبی رجحان کیا تھا۔ اگر ٹیگور مشرک تھا تو یہ ترانہ بھی بے شک مشرکانہ ہے، لیکن ٹیگور کے لٹریچر میں ایسی کوئی بات نہیں ملتی۔ پروفیسر جان واٹسن نے اپنی کتاب "ٹیگور کے مذہبی نظریات' میں ایک خط نقل کیا ہے جس میں ٹیگور لکھتے ہیں: "نہ میں کسی مذہبی فرقے سے تعلق رکھتا ہوں اور نہی میں کسی خاص عقیدے پر کاربند ہوں، میں اتنا جانتا ہوں کہ جب سے خدا نے مجھے بنایا ہے اس نے اپنے کو میرا بنالیا ہے" جان واٹسن لکھتے ہیں کہ "ٹیگور کا مذہب خدا اور فطرت سے محبت تھی"۔ مورخین نے اس بات کی صراحت کی ہے کہ ٹیگور بت پرست نہیں تھے۔ البتہ وہ اسی فلسفے سے متاثر تھے جس سے ہمارے بہت سے غالی صوفیاء بھی متاثر رہے ہیں۔ ان کی تحریروں سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ایک ایسے خدا کے قائل تھے جو بے نیاز ہو، زمان ومکان سے وراء ہو اور کائنات کا تنہا خالق وہادی ہو۔ البتہ وہ وحدت الوجود کے عقیدے سے سخت متاثر تھے۔ اس عقیدے پر خود ہمارے یہاں صدیوں بحث ہوئی ہے، لیکن اکابر دیوبند نے دونوں جانب کے احترام کو ملحوظ رکھتے ہوے سکوت کو ترجیح دی ہے۔

ٹیگور فلسفیانہ تصوف سے اس قدر متاثر تھے کہ ان کے مذہب اور خدا کے تعلق سے منقول بہت سے اقوال سے ایسا لگتا ہے کہ گویا وہ اسی تصوف سے ماخوذ تھے۔ غالی صوفیاء کے یہاں ایک موضوع حدیث کا بڑا رواج رہا ہے: "كنت كنزا مخفيا..." میں چھپا ہوا خزانہ تھا، میں نے چاہا کہ مجھے جانا جائے لہذا میں نے مخلوق کو پیدا کیا"۔ ٹیگور نے اس سے ملتی جلتی ہی ایک بات کہی ہے کہ: " خدا نے تخلیق کے ذریعے اپنے کو جانا"۔ ایک دوسرے موقع پر وہ کہتے ہیں کہ "اصل عبادت اس کے سامنے کھڑا ہونا نہیں ہے بلکہ اس کے سامنے سر تسلیم خم کردینا ہے"۔

ٹیگور کے ترانہ سے متعلق تنازعہ ان کی زندگی میں ہی شروع ہوگیا تھا، جب لوگوں نے ان پر اعتراض کیا کہ آپ نے یہ ترانہ شاہ جارج پنجم کے لیے لکھا ہے، انھوں نے جواب دیا کہ: "میں صرف اپنی ہی بے عزتی کرتا اگر میں بادشاہ کی تعریف کرتا، یہ میری حماقت ہوتی اگر میں جارج کو – چہارم ہو کہ پنجم- خدائے صمد (کہ جس نے ہمیشہ اپنے طالبوں کی راہنمائی کی ہے) قرار دیتا"۔ اس اقتباس سے اندازہ ہوا کہ نہ تو ٹیگور نے وہ ترانہ شاہ جارج کے لیے لکھا تھا اور نہی بھارت ماتا نامی کسی معبود کے لیے۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ ٹیگور کا خدا کے بارے میں کیا تصور تھا۔ اب آئیے "امریتا بازار پتریکا" کی 28 دسمبر 1911 کی خبر کا ایک حصہ ملاحظہ کیجیے: "کانگریس کی کارروائی کا آغاز بنگلہ میں لکھی حمد سے ہوا"۔

اس پورے پس منظر اور شاعر کے مذہبی رجحانات کو ذہن میں رکھتے ہوے اب آپ ترانہ ہندی کا ترجمہ ملاحظہ کریں:

"اے! بھارت کی منزل کا فیصلہ کرنے والے، عوام کے ذہن و دلوں پر حکومت کرنے والے تیری جئے ہو
تیرا نام ہی، پنجاب، سندھ، گجرات، مراٹھا عللاقوں کے دلوں میں بلند ہے
دراوڈ، اتکل اور بنگال میں بھی
تیرا ہی نام وندھیہ اور ہمالہ کی پہاڑیوں میں گونجتا ہے
جمنا اور گنگا کے پانی میں یہی رواں دواں ہے
مذکورہ علاقے تیرا ہی نام گنگناتے ہیں
اور تجھ سے ہی دعائیں مانگتے ہیں
وہ صرف عظیم فتوحات کے نغمے گاتے ہیں
ان لوگوں کی نجات تیرے ہی ہاتھوں ہے
اے! بھارت کی منزل کا فیصلہ کرنے والے، عوام کے ذہن و دلوں پر حکومت کرنے والے
تیری جئے ہو، تیری جئے ہو، تیری جئے ہو"

جن حضرات نے اس ترانے کی حرمت پر فتویٰ دیا ہے ایسا لگتا ہے کہ ان کے پیش نظر وہی وحدت الوجود والی بحث ہے جس کے نتیجے میں کتنوں ہی کو مشرک قرار دیا گیا اور کتنے ہی لوگوں کو ظاہر پرست، اور اگر ایسا نہیں ہے بلکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ٹیگور نے "بھارت ماتا" کی تعریف کی ہے تو یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ ٹیگور کے نزدیک ایسے کسی معبود کا وجود نہیں تھا۔

میں سمجھتا ہوں کہ ہندوتوا پسند عناصر کو اس ترانے سے اسی لیے چڑ ہے کہ ٹیگور نے ان اشعار کے ذریعے ان کے عقیدے کی ریتیلی عمارت منہدم کردی ہے۔ لیکن یہ بات تعجب خیز ہے کہ ہمارے کچھ علما اس ترانے کو تبدیل کرنے کے لیے آواز اٹھارہے ہیں، یہ حضرات نادانستہ طور پر ان شدت پسند عناصر کے لیے کمک ثابت ہورہے ہیں۔ اگر یہ ترانہ ہندی تبدیل ہوتا ہے تو پھر وندے ماترم کو قومی ترانہ کے طور پر قبول کرنے کے لیے تیار ہوجائیے۔ صدر جمہوریہ راجندر پرساد نے جس تقریر میں جن گن من کو قومی ترانہ کے طور پر قبول کرنے کا اعلان کیا تھا اسی تقریر میں وندے ماترم کے بارے میں بھی کہا تھا کہ "اس ترانے نے آزادی کی شمع جلائے رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے اس لیے اس گانے کو بھی اس کا حق دیا جائے گا" اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ موجودہ قومی ترانہ کی جگہ "سارے جہاں سے اچھا" قبول کرلیا جائے گا یہ اس کی سب سے بڑی بھول ہوگی!
یاسر ندیم الواجدی

report post quote code quick quote reply
back to top