| !بہت اچھا | بہت سے طلبہ:
|
| اس کے بعد سب لڑکے کلاس روم سے باہر نکل گۓ - عروہ ڈاک خانہ سے منی آرڈر لیں آیا، اور رقم پر کر کے رکھ لیا - چھٹی کے بعد پانچ، چھ لڑکے قریب ڈاک خانہ جا پہونچے، اور ماسٹر حذیفہ کے نام اور گھر کے پتے پر چار ہزار کا منی آرڈر کر دیا | راوی: |
| *****
|
|
| [ماسٹر صاحب کی گھر میں دروازہ کی گھنٹی بجیں]
|
|
| کون ہیں بھائی؟ | ماسٹر صاحب: |
| [دروازہ کھولے]
|
|
| پوسٹ مان - سر آپ کا منی آرڈر آیا ہیں | :پوسٹ مان |
| منی آرڈر؟ میرے نام؟ کس نے بھیجا ہیں؟ | ماسٹر صاحب: |
| جناب نیچے کوپن پر لکھا ہوا ہیں، پڑھ لی جۓ | :پوسٹ مان |
| ماسٹر صاحب نے کوپن پر درج شدہ تحریر پڑھ لی، تو بہت خوش ہوے، اور رقم وصول کر لی ***** | راوی: |
| اگلے دن جب ماسٹر صاحب خوشی کی حالت میں سکول پونچھے، تو طلبہ چہرے پر خوشی کے آثار دیکھ کر خوش ہو گۓ | راوی: |
| پیارے بچھو، آج ميں بہت خوش ہوں | ماسٹر صاحب: |
| سر! ہمیں بھی اپنے خوشی کی بات بتا کر اپنے خوشی میں شریک کرے؟ | :عروہ |
| کل ایک نہ معلوم شخص کی طرف سے میری تنخواہ کا منی آرڈر وصول ہوا - اس نے لکھا تھا کہ اس کو یہ رقم سڑک پر پڑی ملی تھی - اس لفافہ پر آپ کا نام بھی تھا | ماسٹر صاحب: |
| "میں خود تو نہیں آسکتا ہوں، لہاذا رقم منی آرڈر کر رہا ہوں" |
|
| سر! یہ تو بہت خوشی کے بات ہیں - کوئی بہت ایماندار شخص تھا | :عروہ |
| اللہ اس کی اس نیکی کو قبول کرے، اور اس کی دنیا اور آخرت سنوار دے | ماسٹر صاحب: |
| رقم ملنے کی خبر، پورے سکول میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی - تمام اساتذہ ان کو مبارکباد دے رہیں تھے اور اس نہ معلوم شخص کی تعریفے کر رہیں تھے - لیکن، کل جب ماسٹر صاحب کلاس میں داخل ہوے، تو ان کے چہرے پر پریشانی کے آثار تھے | راوی: |
| سر! کیا ہوا؟ آج آپ پھر پریشان نظر آ ریں ہیں | ایک طالب: |
| اصل میں یہ ہوا، کہ جب میں کل سکول سے گھر گیا، تو اپنے بستر پر لیٹے ہوے میری نظر میز کے نیچھے پڑے ہوے لفافہ پر پڑی - جب میں نے جھک کر لفافہ اٹھایا، تو وہ وہی لفافہ تھا جو گم ہو گیا تھا - اور اس میں پوری تنخواہ بھی موجود تھی - میرا خیال ہیں کہ میرے جیب سے پیسہ وہیں گر گۓ تھے | ماسٹر صاحب: |
| تو سر اس میں پریشانی کی کیا بات ہیں؟ | :عروہ |
| میں پریشان اس لۓ ہوں کہ جب لفافہ میرے گھر میں گرا تھا، تو منی آرڈر کس نے کیا ہیں؟ | ماسٹر صاحب: |
| سر، اگر آپ کے پاس تنخواہ دبل ہو گئی ہیں، تو اس میں فکر کی کیا بات ہیں؟ ہو سکتا ہیں کہ آپ کے کسی خیر خواہ نے بھیجی ہو | :عروہ |
| یہ کیا کہرہے ہو تم؟ یعنی میں معلوم بھی نہ کروں کہ آپ ہی یہ رقم کس مہربان نے بھیجی ہیں؟ | ماسٹر صاحب: |
| سر! اگر آپ کو معلوم ہو جاۓ، تو آپ کیا کریں گے؟ | :عروہ |
| میں اس رقم کو شکریہ کے ساتھ واپس کر دوں گا - اور اس کا یہ احسان کبھی نہیں بھولوں گا | ماسٹر صاحب: |
| سر! میں آپ کو اس کا نام بتا سکتا ہوں - لیکن شائد یہ ہیں کہ آپ اس رقم کو واپس نہیں کریں گے | :عروہ |
| یہ نہیں ہو سکتا - پیسے میں ضرور واپس کروں گا | ماسٹر صاحب: |
| دوستوں، میرا خیال ہیں کہ سر کو ساری بات بتا دی جاۓ - ورنہ یہ الجھن میں مبتلی رہیں گے - جو اچھی بات نہیں ہیں | :عروہ |
| !ہاں، یہ ٹھیک ہیں | بہت سے طلبہ:
|
| عروہ نے ماسٹر صاحب کو سب کچھ بتا دیا - وہ حیرت زدو رہ گۓ - انہوں نے گھبرائی ہوئي آواز میں کہا | راوی: |
| تمہی.. تمہی اپنے ماسٹر کی پریشانی کا اتنا خیال ہیں؟ میرے بچھو، تم بہت عظیم ہو | ماسٹر صاحب: |
| پھر ماسٹر صاحب نے ہیڈ ماسٹر اور دوسرے اساتذہ کو اپنی کلاس کی کار کردگی کی متعلق بتایا ***** | راوی: |
| اگلے دن صبح اسمبلی کے دوران، ہیڈ ماسٹر صاحب نے ایک تقریر کی - جس نے ماسٹر حذیفہ صاحب کی تنخواہ گم ہونے، اور ان طالب علموں کے کار نامہ کے متعلق سب کچھ تمام بچھو کو بتا دیا - پھر انہوں نے کہا | راوی: |
| میں چھٹی کلاس کےسب طلبہ کو شاباشی دیتا ہوں، اور انہے مزید میں کام کرنے کی تلقین کرتا ہوں | ہیڈ ماسٹر: |
| میں اپنی کلاس کے مانیٹر عروہ کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ آ کر مجھ سے اپنی رقم لیں جائی - اور جس لڑکے نے جتنی رقم دی ہیں واپس کر دے | ماسٹر صاحب: |
| ان کی کلاس کے تمام طلبہ آپس میں باتیں کرنے لگے - پھر ایک لڑکا سٹیج پر آیا، اور اس نے کہا | راوی: |
| جو رقم کسی نیک کام پر خرچ کی جا چکی ہوں، اسے واپس نہیں لینا چاہۓ - ہمارے استاد اس رقم کو واپس لینے پر اصرار کر رہے ہیں - اس لۓ ہم نے یہ فیصلہ کیا ہیں، کہ اس حقیر سی رقم کو سکول کے لائیبریری فنڈ میں جمع کرا دی جاۓ - ہمارے لائیبریری میں بہت کم کتابے ہیں - ان پیسہ سے معلوماتی، سائنسی، طاریقی اور اسلامی کتابے خریدی جاۓ - تاکہ طالب علموں نے مطالعہ کا شوق پیدا ہو، اور ان کے معلوماتے اضافہ ہو | :لڑکا |
| سکول کے سب طالب علم اور اساتذہ بے اختیار تالیاں بجھانے لگے - ابھی تالیاں بجھنا شروع ہی ہوئي تھی، کہ ہیڈ ماسٹر صاحب کی آواز گونجی | راوی: |
| خوشی کے موقع پر تالیاں نہیں بجھانے چاہۓ - بلکہ سبحاناللہ، ماشااللہ یہ نارے تکبیر لگانا چاہۓ | ہیڈ ماسٹر: |
| ***** |
|