Top Members

Muslim family of 13 convert to Hinduism to pressure police after murder

Jump to page:

You have contributed 55.3% of this topic

Thread Tools
Appreciate
Topic Appreciation
To appreciate this topic, click 'Appreciate Topic' on the right.
Rank Image
abu mohammed's avatar
London
19,395
Brother
5,658
abu mohammed's avatar
#1 [Permalink] Posted on 4th October 2018 11:39
Muslim family of 13 convert to Hindu to pressure police after relative’s ‘murder

RT News

A Muslim man living in India was so desperate to have the death of his son properly probed by police that he and 12 members of his family converted to Hinduism in the hope it would prompt adequate support from authorities.

Akhtar Ali, from the northern Indian state of Uttar Pradesh, told reporters he and his family converted to Hinduism when the “unnatural death” of his 28-year-old son was treated by police as suicide.

Ali, a resident of Badarkha village in Baghpat district, and his family submitted an affidavit on Monday confirming their conversion to Hinduism was voluntary. The next day the family performed various Hindu rituals before officially changing their names.

State chief of Yuva Hindu Vahini (Bharat), Shaukendra Khokhar, said that the family had pleaded with police not to rule out any line of inquiry but despite this authorities allegedly still concluded Ali’s son, Gulhasan, had taken his own life.


Ali said his son was murdered on July 28 and his body “was hanged to make it look like a case of suicide,” the Times of India reports.

“I approached police a number of times and pleaded with my community members to testify in our favour, but nobody came forward.

He added his family “hopes to get justice now” that they’ve converted.

Police contested reports of officers being apathetic to the family’s situation and said they will not be able to say “anything with certainty” until the autopsy report is reviewed by a medical-legal expert.

District magistrate Rishirendra Kumar said the family conversion was nothing but a “gimmick” to pressure authorities into conducting investigations according to their own will.
report post quote code quick quote reply
No post ratings
back to top
Rank Image
sipraomer's avatar
Offline
Unspecified
533
Brother
250
sipraomer's avatar
#2 [Permalink] Posted on 4th October 2018 14:13
So sad. A time will come when a momin will be a believer in the morning and become kafir at night. And at night will be a believer and in the morning will be a kafir.

Audhu billahiminishaitan nirajeem.
report post quote code quick quote reply
+0 -0Ameen x 1
back to top
Rank Image
abuzayd2k's avatar
Offline
Unspecified
137
Brother
52
abuzayd2k's avatar
#3 [Permalink] Posted on 4th October 2018 15:18
And, the elderly gentleman whose photo is being circulated draped in saffron was ba-sharah (he had a sunnah beard).
report post quote code quick quote reply
No post ratings
back to top
Rank Image
abu mohammed's avatar
London
19,395
Brother
5,658
abu mohammed's avatar
#4 [Permalink] Posted on 4th October 2018 15:46
It seems as though the Local Muslim Community let them down.
Quote:
“Later, a Muslim panchayat was held where we were humiliated instead of being offered any help. Facing non-cooperation from our own community, we decided to change our religion. We hope to get justice now" Ali said

timesofindia.indiatimes.com/city/meerut/facing-neglect-fr...
report post quote code quick quote reply
No post ratings
back to top
Rank Image
Offline
Unspecified
1,010
Brother
286
#5 [Permalink] Posted on 4th October 2018 17:37
sipraomer wrote:
View original post


Assalāmu `alaikum Warahmatullāhi Wabarakatuh.

Brother, is the statement of yours based on a Prophetic narration?
report post quote code quick quote reply
No post ratings
back to top
Rank Image
abu mohammed's avatar
London
19,395
Brother
5,658
abu mohammed's avatar
#6 [Permalink] Posted on 4th October 2018 17:39
Imam Ali wrote:
View original post

It is a very famous Hadith. Here is a similar one.

قَالَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ : بَادِرُوا بِالْأَعْمَالِ فِتَنًا
كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ يُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا
وَيُمْسِي كَافِرًا أَوْ يُمْسِي مُؤْمِنًا وَيُصْبِحُ كَافِرًا
يَبِيعُ دِينَهُ بِعَرَضٍ مِنْ الدُّنْيَا . رواه مسلم
report post quote code quick quote reply
No post ratings
back to top
Rank Image
bint e aisha's avatar
Offline
Unspecified
343
Sister
229
bint e aisha's avatar
#7 [Permalink] Posted on 5th October 2018 14:25
Ulama should do something to bring them back! :'(
report post quote code quick quote reply
+0 -0Agree x 2
back to top
#8 [Permalink] Posted on 5th October 2018 14:42
There is a saying in urdu "uljhane wale bahuth hain, suljhane wala koyee naheen"

It is easy give fatwah of kufr.....will that solve the problem.

I recall post Babri masjid demolition riots in India. If the situation was not brought under control, I mean protecting the Imaan of millions, there would have been large scale irtedaad.

Allah used one group for this purpose. But most of the Indians don't even know on ground level what great service the group did to that Ummah at that time.
report post quote code quick quote reply
No post ratings
back to top
#9 [Permalink] Posted on 5th October 2018 14:56
پ کا نام کیا ہے؟ ’میرا نام اختر علی ہے۔‘ 64 سالہ اختر علی شاید بھول گئے تھے کہ باغ پت کے بدرکھا نامی گاؤں میں وہ دو اکتوبر کو ہندو مذہب اختیارکر چکے ہیں۔ اچانک انھیں یاد آیا اور انھوں نے کہا، ’نہیں میرا نام اب دھرم سنگھ ہے۔‘

تین اکتوبر کی شام کو پانچ بجے کا وقت ہے ان کے گھر کے پیچھے ایک چھوٹی سی مسجد ہے مسجد سے آذان کی آواز آتی ہے، دھرم سنگھ درمیان میں ہی بات چیت بند کر دیتے ہیں اور آذان ختم ہونے تک خاموش رہتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ کیا 64 سال تک مسلمان رہنے والے اختر علی اپنی باقی کی زندگی دھرم سنگھ بن کر جی لیں گے۔

وہ کہتے ہیں ’مجبوری ہے جی، نہ وہاں سُکھ تھا نہ یہاں چین ہے۔ یووا ہندو واہنی نے یوگی مودی سرکار سے انصاف دلوانے کا وعدہ کیا ہے۔

اگر یہاں بھی انصاف نہیں ملا تو؟ وہ کہتے ہیں، ’وہی ہوگا، نہ گھر کے نہ گھاٹ کے۔‘ کیا اچھا نہیں ہوتا کہ ’انصاف‘ کے لیے آپ کو ہندو نہیں بننا پڑتا؟ اس سوال پر دھرم سنگھ خود کو سنبھالتے ہوئے آنکھیں بند کر لیتے ہیں۔


دلشاد کا کہنا ہے کہ اب وہ دلیر سنگھ بن گئے ہیں
اتر پردیش میں باغ پت شہر سے 35 کلومیٹر دور بدرکھا گاؤں میں دو اکتوبر کو اختر علی اور ان کے تین بیٹوں کے ساتھ ایک بہو اور دیگر آٹھ افراد کے ہندو بننے کی خبر آئی۔ دلشاد کا کہنا ہے کہ اب وہ دلیر سنگھ بن گئے ہیں۔ ارشاد کہتے ہیں کہ انھیں اب کوی کہا جائے اور نوشاد کو اب نریندر سنگھ نام اچھا لگ رہا ہے۔

دلشاد کی بیوی منسو کا بھی کہنا ہے کہ وہ اب منجو ہیں۔ نوشاد یعنی اب نریندر کی بیوی رقیہ کہتی ہیں کہ انھیں اپنے ہی مذہب میں رہنا ہے اور ان کے شوہر جھوٹ بول رہے ہیں کہ وہ ہندو بن گئی ہے۔

رقیہ جب یہ بات مجھے بتا رہی تھیں تو نریندر نے انھیں روکنے کی کوشش کی۔ رقیہ نے اپنے شوہر سے کہا کہ ’آپ کو جو بننا ہے بنو، مجھے اپنے ہی مذہب میں رہنا ہے۔‘

رقیہ کی گود میں چار سال کا ان کا بیٹا ناہید ہے۔ نریندر کہتے ہیں کہ ان کا بیٹا ناہید بھی ہندو بن گیا ہے۔ اس پر رقیہ شدید اعتراض کرتی ہیں اور کہتی ہیں کہ ’تم بنو جو بننا ہے۔ یہ مسلمان ہی رہے گا۔‘

نریندر اپنی بیوی کو کوئی جواب نہیں دے پاتے۔ اسی دوران ناہید اناج کی بوری پر رکھے اس کیسری کپڑے کو اپنے کندھے پر ڈال لیتا ہے جسے اوڈھ کر نوشاد نریندر بنے تھے۔ رقیہ ناہید کو ڈانٹتی ہیں اور اس کپڑے کو وہیں رکھ دیتی ہیں۔


یووا ہندو واہنی کے سوکیندر کھوکھر اور یوگیندر تومر نے اس خاندان کو بدرکھا گاؤں کے ایک مندر میں مسلمان سے ہندو بنایا
’یووا ہندو واہینی‘ نے بنایا ہندو
بدرکھا گاؤں میں اس خاندان کا کوئی گھر نہیں۔ یہ گاؤں کے ہی جسبیر سنگھ چودھری کے گھر میں پچھلے دو ماہ سے رہ رہے ہیں۔ یہ بڑا سا گھر ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یووا ہندو واہنی بھارت نام کی تنظیم نے اسے یہ گھر دلایا ہے۔

یووا ہندو واہنی بھارت، کے اتر پردیش کے سربراہ سوکیندر کھوکھر اسی گاؤں کے ہیں اور انھوں نے ہی یہ گھر دلوایا ہے۔ کیا یہ تنظیم ہندو یووا واہنی سے مختلف ہے؟ سوکیندر کہتے ہیں کہ ’ہندو یووا واہنی کو یوگی جی نے وزیر اعلی بننے کے بعد بند کر دیا تھا۔ یہ تو الگ ہے جی۔ ہمارے قومی سربراہ شووراج سنگھ چوہان (مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ نہیں) ہیں، اور رابطہ کار امر سنگھ۔

یووا ہندو واہنی کے سوکیندر کھوکھر اور یوگیندر تومر نے اس خاندان کو بدرکھا گاؤں کے ایک مندر میں مسلمان سے ہندو بنایا۔ سوکیندر کا کہنا ہے کہ یہ اسلام سے آجز آ گئے تھے اور اپنی مرضی سے ہندو مذہب کو اپنایا ہے۔

یووا ہندو واہنی کس حق سے لوگوں کا مذہب تبدیل کراتی ہے؟ سوکندر کہتے ہیں کہ ’کچھ نہیں جی، بس کوئی مسلمان سے ہندو بنتا ہے تو اچھا لگتا ہے۔ میں نے ان سے کوئی وعدہ نہیں کیا ہے۔ ہاں، گھر ضرور دلوایا ہے، لیکن یہ ہمیشہ کے لیے نہیں ہے۔ انھیں یہ گھر بھی چھوڑنا ہوگا۔‘


نوشاد کی بیوی رقیہ نے ہندو بننے سے انکار کیا
دوسری طرف نوشاد کہتے ہیں کہ ’ہم لوگ 29 ستمبر کو سوکیندر کھوکھر سے ملنے گئے تھے۔ انھوں نے کہا وہ میرے بھائی گلشن کی موت میں پولیس اور سرکار سے مدد کرائیں گے۔ انھوں نے ساتھ دینے کا وعدہ کیا اور کئی طرح کی مدد کی۔ مذہب بدلنے کی بات بھی وہیں ہوئی۔ وہیں ہم نے طے کیا کہ ہندو بننا ہے۔‘

دلشاد جو کہ اب دلیر سنگھ بننے کا دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ کہتے ہیں کہ ’انھوں نے ہماری بہت مدد کی جی۔ بس بھائی کے قتل میں انصاف مل جائے۔‘ جب دلیر سنگھ سے پوچھا کہ اس گھر میں آپ کو کب تک رہنے دیا جائے گا تو ان کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ ’پتہ نہیں جی کہاں جاؤں گا۔ اگر یہاں آنے کے بعد بھی کچھ فائدہ نہیں ہوا تو پچھتاوا ہی ہوگا۔ ہم کہیں کے نہیں رہ جائیں گے جی۔‘

دلشاد کی بیوی منسو بھی خود کو ہندو بتا رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اب وہ منجو ہیں۔ منسو کو منجو بننا کتنا اچھا لگ رہا ہے؟ مٹی کے چولہے پر گوبر کے اپلے سے کھانا پکا رہی منجو اس سوال پر چپ ہو جاتی ہیں۔ پھر کہتی ہیں کہ ’ابھی تک تو گاؤں کے ہندؤوں نے کافی مدد کی ہے جی۔ آگے کا نہیں پتا۔‘


خاندان کی ان دونوں بہوؤں نے مذہب تبدیل نہیں کیا
مذہب تبدیل کرنے پر خاندان میں اختلاف
ارشاد کی بیوی آشما اپنے شوہر کے ہندو بننے سے ناراض تھیں اور وہ گھر چھوڑ کر میکے چلی گئیں۔ شبارا بھی اسی خاندان کی ایک بہو ہیں۔ انھیں بھی گھر کے مردوں نے ہندو بننے کے لیے کہا تھا، لیکن انھوں نے انکار کر دیا۔ شبارا کہتی ہیں کہ ’میں جو ہوں، وہی رہوں گی۔ ان کو لگتا ہے کہ ہندو بننے سے بیٹے کی موت میں انصاف مل جائے گا تو اچھا ہی ہے۔ میں بھی اس کی دعا کرتی ہوں۔‘

آنگن میں بیٹھی برتن دھو رہی شبارا بڑی مایوسی سے کہتی ہیں کہ ہندو مسلم کے پھیر میں خاندان بکھر گیا۔ جب یہ خواتین یہ باتیں کر رہی تھیں تو گاؤں کے کئی لوگ بھی وہاں موجود تھے۔ وہ اس خاندان کو کئی بار سمجھاتے نظر آئے کہ کیا کہنا ہے اور کیا نہیں۔

ان کے سکھانے کے بعد اس خاندان کا بیان فوراً بدل جاتا ہے۔ حالانکہ اس گھر میں رقیہ ایک ایسی خاتون ہیں جو سب کے سامنے کہتی ہیں کہ ان کے والد نے جلد بازی میں بہک کر فیصلہ کیا تھا۔

دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ 20 افراد والے اس خاندان کے 12 لوگوں نے ہندو مذہب اپنا لیا ہے۔ اگر اس خاندان سے بات کریں تو کُل چھ لوگ کھل کر کہتے ہیں کہ وہ ہندو بن گئے ہیں۔ پورے گاؤں میں اس وجہ سے ہلچل ہے۔

رات کے آٹھ بج گئے ہیں۔ راجکمار اسی گاؤں کے ہیں اور یہاں کے پردھان ہیں۔ ان کے گھر پر کئی لوگ بیٹھے ہوئے ہیں۔ گریجویشن میں پڑھنے والے کچھ نوجوان بھی ہیں جو آپس میں بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میڈیا والے تو پاگل ہو گئے ہیں، انھیں نہیں پتا کہ جب تک فائدہ ہے تب تک ہی یہ ہندو رہیں گے، پھر وہ مسلمان ہی بنیں گے۔

گاؤں میں پولیس والے بھی آئے ہیں۔ ان میں سے ایک اہلکار نے بات چیت کے دوران کہا کہ جو نہ کھائے سورا (سؤر) ہندو نہ ہووے پورا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہندو تو ہو گیا ہے، لیئکن اسے سؤر کھلا کر دکھا دو۔ گاؤں کے کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ایک دو دنوں میں آٹھ لوگ اور ہندو بن سکتے ہیں۔ حالانکہ یووا ہندو واہنی تنظیم اس سے انکار کر رہی ہے۔


دلشاد کی بیوی منسو بھی ہندو بنے کا دعویٰ کر رہی ہیں
جاٹ بہل گاؤں
یہ گاؤں جاٹ بہُل ہے۔ باقی جاتیاں بھی ہیں، لیکن تسلط جاٹوں کا ہی ہے۔ پردھان رجکمار کا کہنا ہے کہ اس گاؤں میں ساڑھے تین ہزار ووٹر ہیں اور اس میں مسلمان ساڑھے تین سو کے قریب ہیں۔ گاؤں کے مسلمان اس واقعے پر کچھ بولنا نہیں چاہتے۔

رات کے نو بج رہے تھے اور مسجد میں دس سے 12 لوگ بیٹھے ہیں۔ ان سے اس تبدیلیِ مذہب کے بارے میں پوچھا تو محمد عرفان نے کہا کہ 'بس ٹھیک ہے جی۔ آپ چائے لیں گے یا کچھ اور، ٹھنڈا منگواؤں؟'

پھر پوچھا کہ یہ سب کیسے ہوا اور کیا وجہ ہے؟ ان کا پھر وہی جواب تھا کہ 'سب ٹھیک ہے۔ ہم لوگ بالکل ٹھیک ہیں۔' انھوں نے آخر میں کہا کہ 'خدا کے لیے سب کچھ مت پوچھیے۔'

یہاں خاموشی ہے، لیکن گاؤں کے پردھان راجکمار کہتے ہیں کہ مسللمان سے کوئی ہندو بنتا ہے تو اچھا ہی لگتا ہے۔ راجکمار کا اچھا لگنا اس خاندان کے لیے کتنا اچھا ہوگا شاید یہ سوال پورے خاندان کو پریشان کر رہا ہے۔

مذہب کے نام پر خاندان بٹ سا گیا ہے
کیوں ہندو بننے کا دعویٰ کر رہا ہے یہ خاندان؟
اختر علی کا خاندان پہلے باغ پت شہر کے پاس خوبی پور نواڈا گاؤں میں رہتے تھے۔ اسی گاؤں میں ایک سال رہے۔ اسی سال جولائی میں ان کے بیٹے گلشن کی لاش مشکوک حالت میں لٹکی ہوئی ملی تھی۔

باغ پت کے ایس پی شیلیش پانڈے کہتے ہیں کہ اس خاندان نے پولیس کو بتائے بغیر خود ہی لاش کو اتارا اور نہلا کر دفنانے چل دیے۔

شیلیش پانڈے کہتے ہیں کہ 'گاؤں سے ہی پولیس کو فون آیا کہ گلشن نام کے شخص کی لاش ملی ہے اور گھر والے دفنانے جا رہے ہیں۔ پولیس کی گاڑی وہاں پہنچی تو قبرستان کے راستے سے لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے لایا گیا۔‘

'یہ اس معاملے میں خود ہی مشکوک ہیں۔ انھوں نے پولیس کو بنا بلائے لاش کیوں اتاری؟ یہ دفنانے میں جلد بازی کیوں کر رہے تھے؟ انھوں نے جو ایف آئی آر لکھوائی ہے اس میں بھی یہی کہا ہے کہ ان کے بیٹے کی لاش لٹکی ہوئی ملی۔‘

شیلیش کا کہنا ہے کہ اس کی تفتیش چل رہی ہے اور جلد ہی سب کچھ واضح ہوجائے گا۔

اختر علی جو اب دھرم سنگھ بن گئے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ 22 سالہ گلشن کا قتل کیا گیا ہے اور پولیس اس کی تفتیش کرنے میں کوتاہی برت رہی ہے۔

یہی بات نوشاد کہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس مشکل وقت میں ان کی قوم کے لوگوں نے بھی ساتھ نہیں دیا، اس لیے ہندو مذہب اپنانے کا فیصلہ کیا۔

خوبی پور نواڈا کے لوگوں کا کہنا ہے کہ گلشن نے خود کشی کی تھی کیونکہ اس کی بیوی کو گھر والے ایک سال سے آنے نہیں دے رہے تھے۔ مشکل وقت میں قوم کے ساتھ نہیں دینے کے الزام پر گاؤں والوں کا کہنا ہے کہ اگر ایسا ہوتا تو قبرستان میں لاش کو دفنانے ہی نہیں دیا جاتا۔


اس خاندان کے نوشاد نے کہا کہ وہ ہندو مذہب سے بہت متاثر ہیں اور رضاکارانہ طور پر ہندو بننا چاہتے ہیں
کیا ہندو بننے سے پولیس اس تفتیش میں اختر علی کی مرضی کے مطابق کام کرے گی؟ شیلیش پانڈے کہتے ہیں کہ 'پولیس مذہب کی بنیاد پر کام نہیں کرتی ہے۔ تفتیش ہم حقائق کی بنیاد پر کرتے ہیں۔اگر کوئی ایسا سوچ رہا ہے تو بالکل غلط ہے کہ مذہب بدلنے کی وجہ سے اسے مدد ملے گئی۔ اسی خاندان کے نوشاد ایس ڈی ایم کے پاس ایک حلف نامہ لے کر آئے تھے کہ وہ ہندو مذہب سے بہت متاثر ہے اور اس لیے رضاکارانہ طور پر وہ ہندو بننے جا رہا ہے۔ مذہب بدلنے کا کوئی سرکاری طریقہ نہیں ہے۔ آپ کو ہندو بن کر رہنا ہے یا مسلمان، اس سے انتظامیہ کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔'

مذہب بدلنے کے بعد بطور ہندو ان کو کونسی جاتی ملے گی؟
یووا ہندو واہنی کا کہنا ہے کہ ان کے آباؤ اجداد جوگی جاتی کے تھے اس لیے انھیں جوگی جاتی ہی ملے گی۔ اختر علی کے خاندان کا بھی کہنا ہے کہ وہ پھیری والوں کا کام کرتے ہیں اس لیے یہ جاتی ان کے پیشے کے حساب سے ٹھیک ہے۔

حالانکہ شیلیش پانڈے کہتے ہیں کہ کوئی خود سے اپنی جاتی نہیں چن سکتا ہے اور اگر چن بھی لیتا ہے تو اسے اس کی بنیاد پر سرکاری سکیموں کا فائدہ نہیں ملے گا۔

سورج غروب ہو چکا ہے۔ بدرکھا گاؤں اندھیرے میں سما رہا ہے۔ اختر علی کے آنگن میں بھی رات دستک دے چکی ہے۔ پر یہ رات اب اختر علی کے آنگن میں نہیں بلکہ دھرم سنگھ کے آنگن میں ہے۔ رقیہ آٹا گوندھ رہی ہیں۔ کل تک نوشاد کے لیے روٹی بناتی تھیں آج وہ نریندر کے لیے روٹی بنائیں گی۔ رقیہ کہتی ہیں: 'کیا فرق پڑتا ہے جی۔ ہمیں تو وہی کرنا ہے جو روز کرتی ہوں۔ ہندو رہیں یا مسلمان۔'
report post quote code quick quote reply
No post ratings
back to top
Rank Image
sipraomer's avatar
Offline
Unspecified
533
Brother
250
sipraomer's avatar
#10 [Permalink] Posted on 5th October 2018 14:56
Imam Ali wrote:
View original post


Wa Alaikumusalam Wa Rahmatullah Wa Barakatuhu Wa Maghfiratuhu

Abu Huraira reported: The Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, said, “Be prompt in performing good deeds before there comes a trial like the darkness of night, during which a man would wake up a believer but would be a disbeliever by evening, or he would be a believer in the evening but would be a disbeliever by morning, selling his religion for some goods in the world.”

Source: Sahih Muslim 118

Grade: Sahih (authentic) according to Imam Muslim
report post quote code quick quote reply
+1 -0Like x 1
back to top
#11 [Permalink] Posted on 5th October 2018 15:03
sipraomer wrote:
View original post


So you were waiting to fit this in hadith for this situation. But what is the solution? What contribution can I offer so that that won't repeat again. Is there a solution in Quran and sunnah for this. or we don't have guidance from Rasulullah for this situation. Or just fatwas.
report post quote code quick quote reply
No post ratings
back to top
Rank Image
bint e aisha's avatar
Offline
Unspecified
343
Sister
229
bint e aisha's avatar
#12 [Permalink] Posted on 5th October 2018 15:34
Guest-53343 wrote:
View original post

Go give them dawah.
report post quote code quick quote reply
+1 -0Like x 1
back to top
Rank Image
sipraomer's avatar
Offline
Unspecified
533
Brother
250
sipraomer's avatar
#13 [Permalink] Posted on 5th October 2018 16:40
Guest-53343 wrote:
View original post


Cool down brother. Neither I am a mufti nor I have issued a fatwa against those poor souls. I have just expressed my sadness over this issue. The Muslim community is also responsible for demoralizing them and they should have also made sabr (even though it's very difficult) and should have expected help from Allah instead of His creation. And again the knowledgeable and the pious ones near them are responsible too for taking care of their own ama'al and not educating them in deen and not helping them to generate stronger emaan. I am feeling sad for them and not judging them. Cool down. Drink some water Ya Akhi.
report post quote code quick quote reply
No post ratings
back to top
#14 [Permalink] Posted on 5th October 2018 17:31
Let me remind, what is happening with this 13 can happen everyone including me and my family.

The more you sweat in peace, the less you bleed in war (crisis).

Let us stop our internal feud, stop calling each other kafir or mushrik, or whatever name calling. Let us use our energies towards right and productive goals.

I heard in one talk "irtedad from iman is final result, it started with irtedad from islamic culture, islamic society, irtedad from sunnah, irtedad from wajibath, irtedaad from faraidh, then finally irtedad from Islam itself."

So let us fight irtedad at root level itself.
report post quote code quick quote reply
+0 -0
back to top
Rank Image
sipraomer's avatar
Offline
Unspecified
533
Brother
250
sipraomer's avatar
#15 [Permalink] Posted on 5th October 2018 18:35
I didn't call them kafir, the article states that they left Islam out of desperation.
report post quote code quick quote reply
No post ratings
back to top

Jump to page:

 

Quick Reply

CAPTCHA - As you are a guest, you are required to answer the following:


In the above image: What colour is the text 'ABC' written in?