Top Members

1969 Moon Landings were FAKE

Jump to page:

You have contributed 25.4% of this topic

Thread Tools
Appreciate
Topic Appreciation
abu mohammed
Rank Image
abu mohammed's avatar
London
20,076
Brother
6,305
abu mohammed's avatar
#91 [Permalink] Posted on 8th February 2019 15:08
Why no one will be able to prove if the rock is from the moon or not!

They have already prepared and answer!
Quote:
It’s been known for a long time that pieces of the moon can be blasted off the surface during impacts and then later hit the Earth as meteorites. This new study now provides evidence that the opposite can also occur – bits of rock from Earth can also end up on the moon – waiting to be discovered by future human or robot explorers.


This is a rock that came from the moon, but it only got there due to debris from earth :(

These people have all their tracks covered :)

earthsky.org/space/is-this-ancient-moon-rock-from-earth

Is this ancient moon rock from Earth?
By Paul Scott Anderson in EARTH | SPACE | February 3, 2019
An intriguing ancient rock found on the moon and brought back by the Apollo 14 mission may actually have originated from Earth, a new study says.

Part of this rock is granite composed of quartz, feldspar, and zircon crystals – all common on Earth but rare on the moon. Did it originate from Earth? Image via NASA.
report post quote code quick quote reply
No post ratings
back to top
#92 [Permalink] Posted on 8th February 2019 17:49
An interesting read, by Mufti Taqi usmani sab dB.
At least read the red words
علماء کے لئے خصوصی بیان

(مضمون طویل ضرور ہے، لیکن فائدے سے خالی بالکل نہیں ہے۔
ہم بلاد ہندیہ کے مسلمان بھی اس طرز پر اپنے تعلیمی اداروں کو دینی علوم کے ساتھ عصری علوم میں بھی مہارت پیدا کر دینی و دنیوی کی انگریز کی تفریق کو مٹا کر ماضی کی روشن تاریخ کو دھرا سکتے ہیں۔)

📚 ایک نئے نظام تعلیم کی ضرورت !!!

——مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مدظلہ کا خطاب——

مجھے بھی اپنے والد مفتی محمد شفیع صاحبؒ سے سنی گئی اس بات کو کئی جگہ سنانے کی توفیق ہوئی۔
پاکستان بننے سے پہلے ہندوستان میں تین بڑے نظامِ تعلیم معروف تھے:
ایک دارالعلوم دیوبند کا نظامِ تعلیم،
دوسرا مسلم یونیورسٹی علیگڑھ کا نظامِ تعلیم اور
تیسرے دارالعلوم ندوۃ العلماء کا نظامِ تعلیم۔

حضرت والد ماجدؒ نے تقریباً 1950ء میں ایک موقع پر جلسۂ عام سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات فرمائی تھی: ’’پاکستان بننے کے بعد درحقیقت نہ ہمیں علیگڑھ کی ضرورت ہے، نہ ندوہ کی ضرورت ہے، نہ دارالعلوم دیوبند کی ضرورت ہے، بلکہ ہمیں ایک تیسرے نظامِ تعلیم کی ضرورت ہے جو ہمارے اَسلاف کی تاریخ سے مربوط چلا آرہا ہے۔‘‘

بظاہر سننے والوں کو یہ بات بڑی تعجب خیز معلوم ہوتی تھی کہ دارالعلوم دیوبند کا ایک مستند مفتی اعظم اور دارالعلوم دیوبند کا ایک سپوت یہ کہے کہ ہمیں پاکستان میں دیوبند کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ ہمیں ایک نئے نظامِ تعلیم کی ضرورت ہے۔

حضرت والد ماجدؒ نے جو بات فرمائی وہ درحقیقت ایک بہت گہری بات ہے اور اُسی کے نہ سمجھنے کے نتیجے میں ہمارے ہاں بڑی عظیم غلط فہمیاں پیدا ہوئیں۔ ہندوستان میں جو تین نظامِ تعلیم جاری تھے، وہ درحقیقت فطری نہیں تھے، بلکہ انگریز کے لائے ہوئے نظام کا ایک نتیجہ اور انگریز کی لائی ہوئی سازشوں کا ایک ردّعمل تھا، ورنہ اس سے پہلے رائج مسلمانوں کے صدیوں پرانے نظامِ تعلیم پر غور کیا جائے تو اس میں مدرسے اور اسکول کی کوئی تفریق نہیں ملے گی۔ وہاں شروع سے لے کر اور انگریز کے زمانے تک مسلسل یہ صورت حال رہی کہ مدارس یا جامعات میں بیک وقت دونوں تعلیمیں دینی اور عصری تعلیم دی جاتی تھیں۔

صورت حال یہ تھی کہ شریعت نے جو بات مقرر کی کہ عالم بننا ہر ایک آدمی کے لیے فرضِ عین نہیں، بلکہ فرضِ کفایہ ہے۔ یعنی ضرورت کے مطابق کسی بستی یا کسی ملک میں علماء پیدا ہوجائیں تو باقی سب لوگوں کی طرف سے وہ فریضہ ادا ہوجاتا ہے، لیکن دین کی بنیادی معلومات حاصل کرنا فرضِ عین ہے، یہ ہر انسان کے ذمے فرض ہے۔ اُن مدارس کا نظام یہ تھا کہ اُن میں فرضِ عین کی تعلیم بلاامتیاز ہر شخص کو دی جاتی تھی، ہر شخص اُس کو حاصل کرتا تھا، جو مسلمان ہوتا تھا۔ البتہ جس کو علمِ دین میں اختصاص حاصل کرنا ہو، اُس کے لیے الگ مواقع تھے۔ جو کسی عصری علم میں اختصاص حاصل کرنا چاہتا تھا، اُس کے لیے مواقع الگ تھے۔

گزشتہ سال میں اور برادرم معظم حضرت مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب مراکش میں تھے۔ میں نے پچھلے سال دیکھا تھا اور حضرت نے اِس سال اُس کی زیارت کی۔ مراکش کو انگریزی میں ’’موروکو‘‘ کہتے ہیں، اُس کا ایک شہر ہے جس کا نام ’’فاس‘‘ ہے۔ میں ’’فاس‘‘ کے شہر میں پچھلے سال گیا تھا اور اِس سال حضرت بھی تشریف لے گئے تھے۔ وہاں ’’جامعۃ القرویین‘‘ کے نام سے ایک جامعہ آج تک کام کررہی ہے۔ اگر ہم اسلامی تاریخ کی مشہور اسلامی جامعات کا جائزہ لیں تو چار بنیادی اسلامی جامعات ہماری تاریخ میں نظر آتی ہیں۔ اُن میں سب سے پہلی مراکش کی جامعہ ’’القرویین‘‘ ہے۔ دوسری تیونس کی جامعہ ’’زیتونہ‘‘ ہے۔ تیسری مصر کی ’’جامعۃ الازہر‘‘ ہے اور چوتھی ’’دارالعلوم دیوبند‘‘ ہے۔ تاریخی ترتیب اسی طرح ہے۔

اس میں سب سے پہلی اسلامی یونیورسٹی جو مراکش کے شہر ’’فاس‘‘ میں قائم ہوئی، تیسری صدی ہجری کی جامعہ ہے۔ ابھی تک ایسی کوئی ترتیب میرے سامنے نہیں آئی کہ یہ صرف عالم اسلام ہی کی نہیں، بلکہ دنیا کی قدیم ترین یونیورسٹی ہے۔ اس تیسری صدی یونیورسٹی کے بارے میں اُس کی تاریخ کے کتابچے میں یہ بات لکھی ہوئی کہ اُس وقت جامعۃ القرویین میں جو علوم پڑھائے جاتے تھے اُن میں اسلامی علوم، تفسیر، حدیث، فقہ اور اس کے ساتھ ساتھ طب، ریاضی، فلکیات جنہیں ہم آج عصری علوم کہتے ہیں، وہ سارے علوم پڑھائے جاتے تھے۔ ابن خلدونؒ، ابن رُشدؒ، قاضی عیاضؒ اور ایک طویل فہرست ہمارے اکابر کی ہے جنہوں نے جامعۃ القرویین میں درس دیا۔ اُن کے پاس یہ تاریخ آج بھی محفوظ ہے کہ یہ وہ جگہ ہے جہاں ابن خلدونؒ درس دیا کرتے تھے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں ابن رُشدؒ درس دیا کرتے تھے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں قاضی عیاضؒ نے درس دیا ہے۔ یہاں ابن عربی مالکیؒ نے درس دیا ہے۔ تاریخ کی یہ ساری باتیں اُن کے پاس آج بھی محفوظ ہیں۔ یہ دنیا کی قدیم ترین یونیورسٹی ہے، اس لحاظ سے کہ چھوٹے چھوٹے مدارس تو ہر جگہ ہوں گے، لیکن جامعۃ القرویین ایک یونیورسٹی کی حیثیت رکھتی تھی جس میں تمام دینی اور عصری علوم پڑھائے جاتے تھے
اس یونیورسٹی میں آج بھی تیسری اور چوتھی صدی کی

سائنٹفک ایجادات کے نمونے رکھے ہیں۔ اُس زمانے میں اسی جامعۃ القرویین سے فارغ لوگوں نے جو ایجادات گھڑی وغیرہ کی کیں، اُن ایجادات کے نمونے بھی وہاں پر موجود ہیں۔ آپ تیسری صدی ہجری تصورکیجیے۔ یہ تیسری صدی ہجری کی یونیورسٹی ہے۔ اس میں اسلامی علوم کے بادشاہ بھی پیدا ہوئے
اور وہیں سے ابن رُشد فلسفی بھی پیدا ہوا اور وہیں سے بڑے بڑے سائنسدان بھی پیدا ہوئے۔ ہوتا یہ تھا کہ دین اسلام کا فرضِ عین علم سب کو اکٹھا دیا جاتا تھا۔ اُس کے بعد اگر کوئی علمِ دین میں تخصصات حاصل کرنا چاہتا تھا تو وہ اسی جامعۃ القرویین میں علم دین کی درس گاہوں میں پڑھتا۔ اگر کوئی ریاضی پڑھانے والا ہے تو وہ ریاضی بھی وہاں پڑھا رہا ہوتا۔ اگر کوئی طب پڑھانے والا ہے تو وہ طب بھی وہاں پڑھا رہا ہوتا۔ یہ سارا کا سارا نظام اس طرح چلا کرتا تھا۔ جامعۃ القرویین کی طرح جامعہ زیتونہ تیونس اور جامعۃ الازہر مصر کا نظامِ تعلیم بھی رہا۔ یہ تینوں یونیورسٹیاں ہمارے قدیم ماضی کی ہیں۔ ان میں دینی اور عصری تعلیم کا سلسلہ اس طرح رہا۔

اس میں آپ یہ بھی دیکھیں گے کہ اگر قاضی عیاضؒ جو حدیث اور سنت کے امام ہیں، اُن کا حلیہ دیکھا جائے اور ابن خلدون جو فلسفہ تاریخ کے امام ہیں، ان کا حلیہ دیکھا جائے، دونوں کو دیکھنے میں کوئی فرق نظر نہیں آتا تھا کہ یہ دین کا عالم ہے اور وہ دنیا کا عالم ہے۔ دونوں کا حلیہ، لباس، ثقافت، طرزِ زندگی، طرزِ کلام سب یکساں تھا۔ اگر آپ مشہور اسلامی سائنسدان فارابی، ابن رُشد، ابوریحان البیرونی ان سب کا حلیہ دیکھیں اور جو محدثین، مفسرین اور فقہاء پیداہوئے اُن کا حلیہ دیکھیں، دونوں کا حلیہ ایک جیسا نظر آئے گا۔ اگر وہ نماز پڑھتے تھے تو یہ بھی نماز پڑھتے تھے۔ اگر اُن کو نماز کے مسائل معلوم تھے تو اِن کو بھی معلوم تھے۔ اگر اُن کو روزے کے مسائل معلوم تھے تو اِن کو بھی معلوم تھے۔ بنیادی اسلامی تعلیمات جو ہر انسان کے ذمے فرضِ عین ہیں، اُس دور میں ہر انسان جانتا تھا اور اس یونیورسٹی میں اُس کو پڑھایا جاتا تھا۔۔ تفریق یہاں سے پیداہوئی کہ انگریز نے آکر باقاعدہ سازش کے تحت ایک ایسا نظامِ تعلیم جاری کیا کہ اس سے دین کو دیس نکالا دے دیا گیا۔ اُس وقت ہمارے اکابرین مجبور ہوئے کہ وہ مسلمانوں کے دین کے تحفظ کے لیے کم از کم جو فرضِ کفایہ ہے، اُس کا تحفظ کریں۔ اُنہوں نے دارالعلوم دیوبند قائم کیا جس نے الحمدللہ! وہ خدمات انجام دیں جس کی تاریخ میں نظیر ملنامشکل ہے، لیکن یہ ایک مجبوری تھی۔ اصل حقیقت وہ تھی جو جامعۃ القرویین میں تھی، جو جامعہ زیتونہ میں تھی، جو جامعۃ الازہر کے ابتدائی دور میں تھی۔ اصل حقیقت وہ تھی۔ اگر پاکستان صحیح معنی میں اسلامی ریاست بنتا اور صحیح معنی میں اس کے اندر اسلامی احکام کا نفاذ ہوتا تو پھر اُس صورت میں ہمیں بقول حضرت والد ماجدؒ کے نہ علیگڑھ کی ضرورت تھی، نہ ندوہ کی ضرورت تھی، نہ دارالعلوم دیوبند کی ضرورت تھی، ہمیں جامعۃ القرویین کی ضرورت ہے، جامعہ زیتونہ کی ضرورت ہے اور ایسی یونیورسٹی کی ضرورت ہے جس میں سارے کے سارے علوم اکٹھے پڑھائے جائیں۔ سب دین کے رنگ میں رنگے ہوئے ہوں، چاہے وہ انجینئر ہو، چاہے وہ ڈاکٹر ہو، چاہے کسی بھی شعبۂ زندگی سے وابستہ ہو، وہ دین کے رنگ میں رنگا ہوا ہو، لیکن ہم پر ایسا نظامِ تعلیم لاد دیا گیا جس نے ہمیں سوائے ذہنی غلامی کے سکھانے کے اور کچھ نہیں سکھایا۔ اُس نے ہمیں غلام بنایا۔ اکبر الٰہ آبادی نے صحیح کہا تھا ؎

اب علیگڑھ کی بھی تم تمثیل لو
اب معزز پیٹ تم اُس کو کہو

صرف پیٹ بھرنے کا ایک راستہ نکالنے کے لیے انگریز یہ نظامِ تعلیم لایا اور اُس کے نتیجے میں مسلمانوں کی پوری تاریخ اور پورا ورثہ تباہ کردیا گیا۔

نتیجہ یہ کہ آج اس نئے نظامِ تعلیم کے ذریعے زبردست دو فرق واضح طو رپر سامنے آئے ہیں۔ ایک یہ کہ موجودہ تعلیمی نظام میں اسلامی تعلیم کے نہ ہونے کی وجہ سے فرضِ عین کا بھی معلوم نہیں۔ اسکول، کالج اور یونیورسٹی کے اکثر طالب علم جانتے ہی نہیں ہیں کہ دین میں فرض کیا ہے؟ دوسرے اُن کے اوپر افکار مسلط کردیے گئے ہیں کہ اگر عقل اور ترقی چاہتے ہو تو تمہیں مغرب کی طرف دیکھنا ہوگا۔ تیسری ان کی ثقافت بدل دی گئی۔ ان کے ذہن میں یہ بات بٹھادی گئی کہ اگر اس دنیا میں ترقی چاہتے ہو تو صرف مغربی اَفکار میں ملے گی، مغربی ماحول میں ملے گی، مغربی انداز میں ملے گی۔ افسوس یہ ہے کہ اس نئے نظامِ تعلیم سے جو گریجویٹس، ڈاکٹرز یا پروفیسرز بن کر پیدا ہوتے ہیں، وہ ہم جیسے طالب علموں پر تو روز تنقید کرتے ہیں کہ ان لوگوں نے اجتہاد کا دروازہ بند کردیا، یہ اجتہاد نہیں کرتے۔ قرآن و سنت اور فقہ میں ’’اجتہاد‘‘ ایک عظیم چیز تھی، لیکن ایک ایسی چیز جس میں اجتہاد کا دروازہ چاروں طرف چوپٹ کھلا ہوا تھا، وہ تھی سائنس اور ٹیکنالوجی، ریاضی، علومِ عصریہ اس میں تو کسی نے اجتہاد کا دروازہ بند نہیں کیا۔ علیگڑھ کے اور اس نئے نظامِ تعلیم کے ذریعے آپ نے کیوں ایسے مجتہد پیدا نہیں کیے جو مغرب کے سائنسدانوں کا مقابلہ کرتے۔ اُس میں آپ نے کیوں ایسے مجتہد پیدا نہیں کیے جو اجتہاد کرکے طب، فلکیات، ریاضی، سائنس وغیرہ میں نئے راستے نکالتے۔ اجتہاد کا دروازہ جہاں چوپٹ کھلا تھا وہاں کوئی اجتہاد کیا ہی نہیں، اور جہاں قرآن و سنت کی پابندی ہے اور قرآن و سنت کی حدود کے اندر رہتے ہوئے اجتہاد کرنا ہوتا ہے، وہاں شکایت ہے کہ علمائے کرام اجتہاد کیوں نہیں کرتے؟

ابھی کچھ دن پہلے کسی صاحب نے ایک کلپ بھیجا جس میں ایک عالم دین سے یہ سوال کیا جارہا تھا کہ مولانا! یہ بتائیے کہ علمائے کرام کی خدمات ویسے اپنی جگہ ہے، لیکن یہ کیا بات ہے کہ علمائے کرام میں کسی طرف سے بھی کوئی سائنسدان پیدا نہیں ہوا، کوئی ڈاکٹر پیدا نہیں ہوا، کسی بھی طرح کی ایجاد نہیں ہوئی، اس کا علمائے کرام کے پاس کیا جواب ہے؟ بندئہ خدا! یہ سوال تو آپ اپنے آپ سے کرتے کہ ہمارے نظامِ تعلیم میں کوئی ایسا مجتہد پیدا ہوا جس نے کوئی نئی ایجاد کی ہو؟ لیکن وہاں تو اجتہاد کے دروازے اس طرح بند ہیں کہ جو انگریز نے کہہ دیا، مغرب نے کہہ دیا بس وہ نظریہ ہے، اُس نے جو دواء بتادی وہ دواء ہے، اُس نے اگر کسی چیز کے بارے میں کہہ دیا کہ یہ صحت کے لیے مضر ہے تو اس کی اقتداء کرتے ہیں۔ انڈے کی زردی کے بارے میں سالہاسال سے کہا جارہا تھا کہ یہ کولیسٹرول پیدا کرتی ہے اور امراضِ قلب میں مضر ہوتی ہے، لیکن آج اچانک ہر ڈاکٹر یہ کہہ رہا ہے کہ انڈے کی زردی کھائو، اس سے کچھ نہیں ہوتا۔ کیوں؟ اس لیے کہ مغرب سے یہ پیغام آگیا ہے، اُسے آپ نے قبول کرلیا ہے۔


ہمارے ملک میں بے شمارجڑی بوٹیاں لگی ہوئی ہیں، اُس پر آپ نے کبھی تحقیق کی ہوتی، اُس سے آپ نے کوئی نتیجہ نکالا ہوتا کہ فلاں جڑی بوٹی ان امراض کے لیے فائدہ مند ہوتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کلونجی کے فوائد بیان فرمائے تھے، اُس پر کوئی تحقیق کی ہوتی۔ وہاں تو اجتہاد کا دروازہ ٹوٹل بند ہے اور اُس میں کوئی تحقیق کا راستہ نہیں، اور جو قرآن و سنت کی بات ہے اُس میں اجتہاد کا مطالبہ ہے۔ یہ ذہنی غلامی کا نظام ہے جس نے ہمیں اس نتیجے تک پہنچایا۔ دوسرا یہ کہ تصورات بدل گئے۔ پہلے علم کا تصور ایک معزز چیز تھی جس کا مقصد معاشرے اور مخلوق کی خدمت تھی، یہ اصل مقصود تھا۔ اس کے تحت اگر معاشی فوائد بھی حاصل ہوجائیں تو ثانوی حیثیت رکھتے تھے، لیکن آج معاملہ الٹا ہوگیا، علم کا مقصد صرف پیسہ کمانا ہے۔ علم کا مقصد یہ ہے کہ اتنا علم حاصل کرو کہ لوگوں کی جیب سے زیادہ سے زیادہ پیسہ نکال سکو۔ تمہارا علم اس وقت کارآمد ہے کہ جب تم لوگوں کے مقابلے میں زیادہ سے زیادہ پیسہ کماسکو۔ آپ دیکھیں کہ موجودہ دور میں کتنے لوگ پڑھ رہے ہیں اور گریجویشن کررہے ہیں، ماسٹر ڈگریاں لے رہے ہیں، قسما قسم کی ڈگریاں حاصل کررہے ہیں، اُن کے ذہن سے پوچھا جائے کہ کیوں پڑھ رہے ہو؟ وہ کہیں گے کہ اس لیے پڑھ رہے ہیں کہ کیریئر اچھا ہو، اچھی ملازمتیں ملیں، پیسے زیادہ ملیں۔ تعلیم کی ساری ذہنیت بدل کر یہ تبدیلی کردی کہ علم کا مقصد پیسہ کمانا ہے۔ عالم حاصل کرکے معاشرے یا مخلوق کی کوئی خدمت انجام دینی ہے، اس کا کوئی تصور اس موجودہ نظامِ تعلیم میں نہیں ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہر شخص پیسے کمانے کی دوڑ میں مبتلا ہے اور اُس کو نہ وطن کی فکر ہے، نہ ملک و ملت کی فکر ہے اور نہ مخلوق کی خدمت کرنے کا کوئی جذبہ اُس کے دل میں پیدا ہوتا ہے۔ وہ دن رات اسی دوڑ دھوپ میں مگن ہے کہ پیسے زیادہ بننے چاہیے۔ اُس کے لیے چوری، ڈاکہ، رشوت و ستانی وغیرہ کے ناجائز ذرائع بھی استعمال کرتا ہے۔

یہ بتائیے! موجودہ نظامِ تعلیم کے تحت جو لوگ یہاں تیار ہورہے ہیں، انہوں نے مخلوق کی کتنی خدمت کی؟ کتنے لوگوں کو فائدہ پہنچایا؟ ہمیں تو پیغمبر انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا تلقین فرمائی تھی: ’’اَللّٰھُمَّ لَاتَجْعَلِ الدُّنْیَا أَکْبَرَ ھَمِّنَا وَلَا مَبْلَغَ عِلْمِنَا وَلَا غَایَتَ رَقْبَتِنَا‘‘… ’’یااللہ! دنیا کو ہمارے لیے نہ تو ایسا بنائیے کہ ہمارا ہر وقت دھیان دنیا ہی کی طرف رہے اور نہ ہمارے علم کا سارا مَبلغ دنیا ہی ہوکر رہ جائے، اور نہ ہماری ساری رغبتوں اور شوق کا مرکز دنیا ہوکر رہ جائے۔‘‘ لیکن اس نظامِ تعلیم نے کایا پلٹ دی۔

حضرت والا ماجد مفتی محمد شفیع صاحبؒ نے جو بات فرمائی تھی اُس کا منشاء یہ تھا کہ انگریز کی غلامی کے بعد جو تعلیم کی کایا پلٹی گئی ہے، اُس کایا کو دوبارہ پلٹ کر اُس راستے پر چلیں جو راستہ جامعۃ القرویین نے دکھایا، جو جامعہ زیتونہ نے دکھایا، جو ابتدائی دور میں جامعۃ الازہر نے دکھایا۔ میں ابتدائے دور کی بات اس لیے کررہا ہوں کہ آج جامعہ ازہر کی بھی کایا پلٹ چکی ہے، اسی لیے ابتدائی دور کی بات کررہا ہوں۔ ہمارے یہاں حکومتی سطح پر وہ نظام تعلیم نافذ نہیں ہوسکا، لہٰذا مجبوراً کم از کم دارالعلوم دیوبند کے نظام کا تحفظ تو ہو۔ الحمدللہ! اسی غرض سے مدارس قائم ہوئے۔ جب تک ہمیں حکمرانوں اور نظامِ حکومت پر اور ان کے بنائے ہوئے قوانین پر بھروسہ نہیں ہے اور نہ مستقبل قریب میں کوئی بھروسہ ہونے کی امید ہے، اس لیے اُس وقت تک ہم اِن مدارس کا پورا تحفظ کریں گے۔ مدارس کو اسی طرح برقرار رکھیں گے جس طرح ہمارے اکابر نے دیوبند کی طرح برقرار رکھا۔ اس کے اوپر ان شاء اللہ کوئی آنچ بھی نہیں آنے دیں گے، لیکن ہم چاہتے ہیں کہ رفتہ رفتہ یہ قوم اُس طرف بڑھے جو ہمارا ابتدائی مطمح نظر تھا۔ اسی سلسلے میں حرا فائونڈیشن کی یہ چھوٹی سی پریذینٹیشن تھی۔

اس میں رئیس الجامعہ کا چھوٹا سا خطاب تھا اور میں بھی اسے ہر جگہ بیان کرنے کی کوشش کرتا ہوں کہ الحمدللہ! پاکستان میں دینی مدارس کی تعداد بقدرِ ضرورت اچھی خاصی ہوگئی، لیکن سارے مدارس فرضِ کفایہ کی تعلیم دے رہے ہیں۔ اگر ان مدارس میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے آنے والوں کا تناسب پورے ملک کے حساب سے دیکھا جائے تو مشکل سے ایک فیصد ہوگا، لیکن ننانوے فیصد قوم جن اداروں میں جارہی ہے اور جس طرح وہ انگریزوں کی ذہنی غلام بن رہی ہے، اس تعداد کا آپ بخوبی اندازہ لگاسکتے ہیں۔

میں یہ بات کئی مرتبہ کہہ چکا ہوں اور کہتا رہتا ہوں کہ آپ کا اصل مقصد یہ ہے کہ خدا کے لیے ہماری اس نسل کو اس انگریز کی ذہنی غلامی سے نکالیے۔ آپ کو یہ تاثر دینا ہے کہ الحمدللہ! ہم ایک آزاد قوم ہیں، ہم ایک آزاد سوچ رکھتے ہیں، ہم اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سوچ رکھتے ہیں اور یہ جو ذہنی غلامی کا تصور پالا گیا ہے کہ جو کچھ ہوگا وہ مغرب سے آئے گا اور ہم مغربی افکار پر پروان چڑھیں گے، خدا کے لیے اس نئی نسل کے ذہنوں سے یہ چیز مٹائیے اور ان کے اندر اسلامی ذہنیت پیدا کیجیے۔ ہم نے اسی مقصد کے لیے یہ ادارہ قائم کیا۔ مغرب کی بھی ہر بات بری نہیں ہے، کچھ چیزیں اچھی بھی ہیں، لیکن اُن اچھی چیزو ںکو لے لو اور بری چیزوں کو پھینک دو، ’’خُذْ مَاصَفا وَدَعَ ماکدر‘‘ اس اصول کے اوپر اگر کام کیا جائے تو ان شاء اللہ ہم منزل تک پہنچ جائیں گے۔

اقبال مرحوم نے بعض اوقات ایسے حسین تبصرے کیے ہیں کہ وہ قوم کے لیے مشعل راہ ہیں۔ مغرب کی ترقی جو کہیں سے کہیں پہنچی ہے اُس پر تبصرہ کرتے ہوئے چند شعر کہے ہیں، وہ ہمیشہ یاد رکھنے کے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ؎

قوتِ مغرب نہ از چنگ و رباب
نے ز رقصِ دخترانِ بے حجاب

چنگ و رباب یعنی موسیقی کے آلات۔ مغرب کی قوت اس لیے نہیں ہوئی کہ وہاں موسیقی کا بڑا رواج ہے، نہ اس وجہ سے ہوئی کہ بے حجاب اور بے پردہ عورتیں رقص کرتی ہیں۔

نے ز سحر ساحران لالہ روست
نے ز عریاں ساق و نے ز قطع موست .

نہ اس وجہ سے ہوئی کہ وہاں حسین عورتیں بہت پھرتی ہیں اور نہ اس وجہ سے کہ انہوں نے اپنی ٹانگیں ننگی کر رکھی ہیں اور اپنے بال دراز کر رکھے ہیں۔

قوتِ مغرب از علم و فن است
از ہمیں آتش چراغش روشن است

قوت اگر ہوئی ہے تو علم و فن میں محنت کرنے کی وجہ سے ہوئی ہے۔ اسی آگ سے اُس کا چراغ روشن ہے۔ اور پھر آخر میں بڑا خوبصورت شعر کہا ہے کہ

حکمت از قطع و برید جامہ نیست
مانع علم و ہنر عمامہ نیست

یعنی حکمت و علم کپڑوں کی قد و برید یا تراش و خراش سے حاصل نہیں ہوتا۔ کسی نے پتلون پہن لی تو ترقی یافتہ اور تعلیم یافتہ ہوگئے۔ اگر شلوار قمیص پہن لی تو پسماندہ ہیں، ترقی پسند نہیں ہیں۔ اگر عمامہ پہن لیا تو اُس سے علم و ہنر میں کوئی رکاوٹ پیدا نہیں ہوتی، لیکن تم نے چند جواہر کو یہ سمجھا ہوا ہے کہ مغرب کو اُس سے قوت حاصل ہوئی ہے اور اُس کے نتیجے میں اپنی نسلوں کو اُس کے پیچھے چلاکر تباہ کررہے ہو، لہٰذا اس سے اپنے آپ کو بچائیں۔۔
report post quote code quick quote reply
No post ratings
back to top
Rank Image
abu mohammed's avatar
London
20,076
Brother
6,305
abu mohammed's avatar
#93 [Permalink] Posted on 8th February 2019 18:04
Can you post a translation of the red in the least?

Otherwise the entire post is missed by many.
report post quote code quick quote reply
No post ratings
back to top
#94 [Permalink] Posted on 8th February 2019 18:04
Someone has sent a clip to Mufti Taqi usmani sab dB that why there are no scientist among ulema.
Mufti sab is replying that, ulema don't have resources for research, but college graduates have resources available to them, but they don't do independent research, why do they follow the follow the west Blindly, why can't they have their own independent view based on research.
report post quote code quick quote reply
+0 -0Like x 1
back to top
Rank Image
Offline
Unspecified
184
Brother
329
#95 [Permalink] Posted on 8th February 2019 19:34
Mufti Taqi Usmani is absolutely spot on with his reply in that red part above. Brother sipraomer, you should read that. It should be of your interest. :)
report post quote code quick quote reply
No post ratings
back to top
#96 [Permalink] Posted on 9th February 2019 12:43
abu mohammed wrote:
View original post


Brother, here is attempted translation.


Pre-independent India had three types of educational institutions, Darul Uloom deoband, Aligarh Muslim University, Darul Uloom Nadwa

in 1950 my father, mufti Shafi sab RA said, after creation of Pakistan, we don't need those institutions, rather we must start a new educational systems which is linked with our heritage preserved in history.
Audience could not believe it that a mufti from darul uloom deoband is declaring that we don't need Doeband, we need a new system.

We misunderstood this strong theory. The three educational systems in India were adopted due to circumstances, it was created to counter British conspiracy. In earlier centuries; in old education system there was no difference between religious and modern education. Before arrival of British; secular and religious education was offered in parallel.

To graduate as aalim was fardh-e-kifayah, Based on the required demand; proportionate number of ulema were created. But basic islamic education was fardh-e-ayen for everyone. The system in madaris was such that, education of fardh-e-ayen was offered for everyone, but islamic education was offered to the needy. And the same institution separately offered technical/secular education for those who demanded it.

Last year myself and brother mufti Rafi Usmani visited Morocco. There is a city by name "Faas". Here, there is an institution by name Jamia Quroeen. If we read Islamic history on Islamic institutions, we get four fundamental Islamic institutions, first is this Jamia Quroeen, 2nd is Jamia Zaitunah in Tunis, 3rd is Jamia Azhar in Egypt, 4th is darul uloom deoband. Historically that is the order of creation.

First Islamic university was established in Faas city in Morocco. This is a third century institution. This is the first university not only in Islamic history but oldest university in general. Information available through literature available there; here in this Jamia quroeen university, it offered islamic education in tafseer, hadith, fiqh and also along with this, education in Medicine, mathematics and astronomy, we call them state of art education.

Great scholars like Ibn Khaldoon, Ibn Rushd, Qazi Ayaz and a big list of akabir served in teaching faculty of this institution. A place is marked where ibn khuldoon RA, Ibn Rushd RA, Qazi Ayaz RA, Ibn Arabi Malaki RA taught. History is preserved here. This is oldest university in history, smaller institutions did exist, but this is oldest university where islamic and technical education were offered in parallel.

Here in this university they have displayed models of local inventions from 4th century. Inventions in Jamia Quroeen like Clocks etc are also displayed here. Ponder upon it, this is 3rd century Hijri university. Both experts in Islamic education and also philosophers like Ibn Rusdh graduated here, also, many scientists are product of this university. After offering basic obligatory deeni education, facilities were offered in mathematics, medicine etc on demand.
Jamia zaitunah in Tunis and Jamia Azhar in Egypt had similar education system. These 3 institutions are from history which offered dual/parallel education system
When we watch closely, we see no difference between physical appearances of Qazi Ayaz RA (who is expert in hadith and sunnah) and philosopher Ibn Khaldoon. They had no difference in dress, appearance, social life, cultural life etc. Similarly Muslim scientist Farabi, Ibn Rushd, Abu Raihan Baironi were in no way different with other muhaditheen, mufassireen and fuqha. Both groups offered salah regularly, both had knowledge of masail of salah, fasting. Irrespective whoever it is everyone possessed basic knowledge of masail and it was offered in these university.

A separate islamic education system was started due to British conspiracy who brought a separate education system which removed islamic education from it. Then our akabireen were forced to offer a parallel islamic education system to protect deen and then established darul uloom deoband, alhamdulillah it is offering remarkable and historical services. This was due to compulsion, otherwise in fact, it was similar to jamia Quroeen or jamia zaitunah or initial period of jamia azhar.
If Pakistan was on its true spirit for it was created then according to my father (mufti shafi sab RA), pakistan neither required Aligarh, nadwah nor deoband. We required Jamia Quroeen, jamia zaitunah, we required universities where all types of education was offered under single roof. Universally a single islamic culture was followed; he could be a doctor, engineer, whatever he is, he followed a single islamic culture.

Unfortunately we were forced to accept an education system which taught mental slavery, we were made slaves. In turn it offered only our daily livelihood. And ummah lost its golden history and heritage.
The result was that this modern education system brought 2 visible changes, first; since it didn't offer islamic teachings, we were deprived of fundamental islamic knowledge. Our youth don't know the basic faraidh in deen. Thoughts are induced in them that if you want to gain worldly progress then you have to adopt western civilization. Their culture was changed. Intellectual progress was linked in adopting western culture.

Unfortunately doctors and professors graduating from this system criticize the students here that you have closed the doors of research, ijehad in quran and sunnah is a valuable asset. But doors are open for research in modern education, medicine, technology, mathematics etc but none from aligarh produced intellects who can challenge the western scientists. Why Aligarh could not produce researches to compete with the west. Wherever doors were open for research, they contributed nothing. But ijtehad in deen had limits, they complain of no contribution from here.

Someone has sent a clip to Mufti Taqi usmani sab dB that why there are no scientist among ulema.
Mufti sab is replying that, ulema don't have resources for research, but college graduates have resources available to them, but they don't do independent research, why do they follow the follow the west Blindly, why can't they have their own independent view based on research.

Our country is rich in herbs and medical plants, no research was done on that. No research is done on using these plants for medicines to cure diseases. There are quotes from Rasulullah SAS on medical benefits of kalonji, none researched on that. Our mental slavery is responsible for this. Today mindset has changed, earlier knowledge was a precious gem, used for serving the community, monetary benefits were secondary. This got reversed. Today knowledge is solely used for earning, transfer of money from others pocket to mine. Today, when we ask anyone, why are you studying, reply comes; to get jobs, to earn, to live a lavish life etc. Nation, community, service etc is secondary. Earn whatever way possible, looting, corruption, worst possible way.
We demand, how many present modern education graduates are serving the community, how many are benefited by them. Rasulullah SAS dua was (summarised) Ya Allah don't impose duniya in a way that, our total concentration is focused on duniya, our knowledge is linked totally with duniya, and our aspiration and passion is focused on duniya.
Alas!! Our modern education totally reversed our priorities.
۔
Mufti Shafi Sab RA is saying that, whatever was reversed by British has to be restored and we must return to path followed by Jamiatul qurueen and jamia zaitunah and early days of jamia azhar. (There is total change in jamia azhar now). Our government didn't implement the right education policy, so we were forced to protect darul uloom education system. Today we have lost faith in laws drafted by government and things will not change in future, so we shall protect the madrasah system, maintain status quo that of akabir in madaris. But we would like to return to 3rd century education system. Hira foundations is a beginning for that.
At present our madaris are sufficient to fill the fardh e kifayah. Only 1% join this madrasah system. But, 99% are moving towards slavery of the west.
I repeatedly request to remove our generation from slavery of the west. Let us tell them that we are a free nation, we have independent thought, that of Rasulullah SAS. We shall reject the mindset that progress comes from west only. For god sake, remove this slavery from minds of our youth. I deny that whatever west is offering is wrong, I say, take the positives from them and reject the negatives.

قوتِ مغرب نہ از چنگ و رباب
نے ز رقصِ دخترانِ بے حجاب
Iqbal RA said, "West never progressed due to the music and that their women dance in open"

نے ز سحر ساحران لالہ روست
نے ز عریاں ساق و نے ز قطع موست .
Neither it is due to beautiful women wander around nor they have exposed their legs nor they have long hairs.

قوتِ مغرب از علم و فن است
از ہمیں آتش چراغش روشن است
They gained power by striving on knowledge and technology

حکمت از قطع و برید جامہ نیست
مانع علم و ہنر عمامہ نیست

There is no link between knowledge and what one wears, it is wrong to say that suite is progressive, shalwar kameez takes backward, if one wears an amamah, it never hinders his knowledge and intellect. Come out of this misconception, and also save our youth from it.
report post quote code quick quote reply
+0 -0Like x 2
back to top
#97 [Permalink] Posted on 10th February 2019 07:43
The return journey of the lunar astronauts remains a mystery. I was watching the return module's take off of from moon surface. 100s of kgs module starts like a toy. (don't know is it animation or real video) Simple rockets are used. This modules leaves moon's gravitational pull and starts travelling and docks with the orbiting module, the orbiting module returns to earth. The return journey is more dangerous, temperatures could reach 1000s of degrees on outer surface of the vehicle. Did the scientists had that advanced technology in 1969?

One more theory put forward by NASA is that last astronauts did fraud, stamped letters on moon and sold it to Germany Businessman. So they withdrew travel to moon. wallahu aalam.
report post quote code quick quote reply
No post ratings
back to top
#98 [Permalink] Posted on 10th February 2019 17:16
"But unlike Apollo, this time we're going to the moon to stay, and from there we'll take the next giant leap in deep space exploration," Bridenstine said.

Space agency NASA has announced its plans to land astronauts on the Moon in the coming years. The agency is planning to test new human-class landers on the Moon beginning in 2024, with the goal of sending crew to the surface in 2028??????
report post quote code quick quote reply
+0 -0
back to top
#99 [Permalink] Posted on 11th February 2019 04:32
Anonymous wrote:
View original post


When NASA has experience of multiple landings on moon, then, again why it has to do test flights without human on board for 4 years from 2024 to 2028 🤔
report post quote code quick quote reply
No post ratings
back to top
Rank Image
xs11ax's avatar
Unspecified
1,861
Brother
1,313
xs11ax's avatar
#100 [Permalink] Posted on 11th February 2019 09:15
Guest-15217 wrote:
View original post

Because they are testing new ones?
report post quote code quick quote reply
No post ratings
back to top
#101 [Permalink] Posted on 13th February 2019 04:51
Instead of race in fancy challenges, can we think of using science and technology to defend ourselves from crimes in our daily life.
We witness crimes in our daily life, kidnap, rape, harassment of girls, attacks on weak, looting, etc. We are helpless onlookers. On that scene, it comes to our minds, that if we had a legal, non lethal, economic, handy, simple tool to tranquile the criminal we would have saved the victim.
Can scientist and technocrats contribute in this. They may not get Noble prize, but duas from victims is assured.
Drugs prepared in unani or other systems can also help.
report post quote code quick quote reply
No post ratings
back to top
Rank Image
Rajab's avatar
Offline
Unspecified
555
Brother
226
Rajab's avatar
#102 [Permalink] Posted on 13th February 2019 08:13
report post quote code quick quote reply
+0 -0Optimistic x 1
back to top
#103 [Permalink] Posted on 13th February 2019 09:17
Rajab wrote:
View original post


My doubt is not cleared yet.
To leave earth, we need tonnes of fuel.
The same way, we need at least 1/6th of power to leave moon's surface, to generate that power, we need propionate amount of fuel.
So the return journey is a mystery for us.

Note: to the best my knowledge, no machine has returned back after traveling beyond 250 Kms. Except the Apollo missions.
report post quote code quick quote reply
No post ratings
back to top
Rank Image
abu mohammed's avatar
London
20,076
Brother
6,305
abu mohammed's avatar
#104 [Permalink] Posted on 13th February 2019 09:57
Rajab wrote:
View original post

I saw this website before along with ton's of other proofs that they did land on the moon. To be honest, they don't hold much truth in them.

These people have a degree or PhD in Waffling :)

Here's a couple of questions:
1) Who raised the camera to follow lift off from the moon? Did they leave Steven Speilberg on the Moon? youtu.be/tS4gpRCjIbE?t=157 (just a couple of seconds)
2) In the 3D image of Japans view, how is it that they got exactly the same latitude and longitude (I appreciate that it's a 3D render :( but so precise)



The Japanese are basically saying to the American's, if you can do it so can we and here's the proof. If America deny it, then case closed. Since America can't deny it, Japan is in a win win situation :)

I wonder if Japan will claim to have found America's flag, or should I say, exposed their false flag!

There are further evidences from Asia about how they have also faked interviews from space (delays in communication and sudden instant response) and floating in gravity...They are simply following American tactics.
report post quote code quick quote reply
No post ratings
back to top
Yasin's avatar
London, UK
5,447
Brother
146
Yasin's avatar
#105 [Permalink] Posted on 13th February 2019 12:37
Rajab wrote:
View original post


Every single one of these weak & inaccurate answers from the moon landing believers have been answered.

And think about it, the fact that they have to use answers to scrutiny as evidence for man landing is proof enough they don't have actual evidence. The problem for them is that all of their 1960's evidence actually disproves them so they don't use that.
report post quote code quick quote reply
No post ratings
back to top

Jump to page:

 

Quick Reply

CAPTCHA - As you are a guest, you are required to answer the following:


In the above image: What is the word in red?