Create an account
Most Reputable Members

Comprehensive Pakistan Thread

You have contributed 0.0% of this topic

Thread Tools
Post New Topic Filter by poster  
Topic Appreciation
Appreciate
The following members appreciate this topic: abu mohammed, abuzayd2k, bint e aisha
Umm Khadeejah
Rank Image
Offline
Joined:
22nd Mar 2017
Longevity:
0%
Location:
Unspecified
Posts:
42
Gender:
Sister
Reputation:
35
#46 [Permalink] Posted on 27th April 2017 09:47
Maripat wrote:
View original post

Bismillah

Can you give some practical tips on how we can achieve this?
This will inshaaAllah help others who can contribute in one way or the other.

wassalam
report post quote code quick quote reply
No post ratings
Site Support
Please DONATE generously towards Muftisays

We spend hundreds of hours ensuring you receive a quality service from this site. We do not fall into the advertisement schemes as all the ads contain elements of Haraam including Haraam Islamic links. Please consider setting up a £1 monthly donation. May Allah (swt) reward you.

Muadh_Khan
Rank Image
Muadh_Khan's avatar
Offline
Joined:
1st Feb 2008
Longevity:
40%
Location:
UK
Posts:
7397
Gender:
Brother
Reputation:
5874
#47 [Permalink] Posted on 27th April 2017 10:41
Why my father called for a new Education System after the establishment of Pakistan?

It may sound strange to many but it is because Darul-uloom Deoband, Nadwa and Aligarh were all reactionary due to British Colonialism and we need to go back to Islamic education system which has been a hallmark for us for generations before the Colonialsim

*ایک نئے نظام تعلیم کی ضرورت:*
مفتی محمد تقی عثمانی عثمانی صاحب مدظلہ کا خطاب

مجھے بھی اپنے والد مفتی محمد شفیع صاحبؒ سے سنی گئی اس بات کو کئی جگہ سنانے کی توفیق ہوئی۔
پاکستان بننے سے پہلے ہندوستان میں تین بڑے نظامِ تعلیم معروف تھے:
ایک دارالعلوم دیوبند کا نظامِ تعلیم،
دوسرا مسلم یونیورسٹی علیگڑھ کا نظامِ تعلیم اور
تیسرے دارالعلوم ندوۃ العلماء کا نظامِ تعلیم۔

حضرت والد ماجدؒ نے تقریباً 1950ء میں ایک موقع پر جلسۂ عام سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات فرمائی تھی: ’’پاکستان بننے کے بعد درحقیقت نہ ہمیں علیگڑھ کی ضرورت ہے، نہ ندوہ کی ضرورت ہے، نہ دارالعلوم دیوبند کی ضرورت ہے، بلکہ ہمیں ایک تیسرے نظامِ تعلیم کی ضرورت ہے جو ہمارے اَسلاف کی تاریخ سے مربوط چلا آرہا ہے۔‘‘


بظاہر سننے والوں کو یہ بات بڑی تعجب خیز معلوم ہوتی تھی کہ دارالعلوم دیوبند کا ایک مستند مفتی اعظم اور دارالعلوم دیوبند کا ایک سپوت یہ کہے کہ ہمیں پاکستان میں دیوبند کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ ہمیں ایک نئے نظامِ تعلیم کی ضرورت ہے۔

حضرت والد ماجدؒ نے جو بات فرمائی وہ درحقیقت ایک بہت گہری بات ہے اور اُسی کے نہ سمجھنے کے نتیجے میں ہمارے ہاں بڑی عظیم غلط فہمیاں پیدا ہوئیں۔ ہندوستان میں جو تین نظامِ تعلیم جاری تھے، وہ درحقیقت فطری نہیں تھے، بلکہ انگریز کے لائے ہوئے نظام کا ایک نتیجہ اور انگریز کی لائی ہوئی سازشوں کا ایک ردّعمل تھا، ورنہ اس سے پہلے رائج مسلمانوں کے صدیوں پرانے نظامِ تعلیم پر غور کیا جائے تو اس میں مدرسے اور اسکول کی کوئی تفریق نہیں ملے گی۔ وہاں شروع سے لے کر اور انگریز کے زمانے تک مسلسل یہ صورت حال رہی کہ مدارس یا جامعات میں بیک وقت دونوں تعلیمیں دینی اور عصری تعلیم دی جاتی تھیں۔

صورت حال یہ تھی کہ شریعت نے جو بات مقرر کی کہ عالم بننا ہر ایک آدمی کے لیے فرضِ عین نہیں، بلکہ فرضِ کفایہ ہے۔ یعنی ضرورت کے مطابق کسی بستی یا کسی ملک میں علماء پیدا ہوجائیں تو باقی سب لوگوں کی طرف سے وہ فریضہ ادا ہوجاتا ہے، لیکن دین کی بنیادی معلومات حاصل کرنا فرضِ عین ہے، یہ ہر انسان کے ذمے فرض ہے۔ اُن مدارس کا نظام یہ تھا کہ اُن میں فرضِ عین کی تعلیم بلاامتیاز ہر شخص کو دی جاتی تھی، ہر شخص اُس کو حاصل کرتا تھا، جو مسلمان ہوتا تھا۔ البتہ جس کو علمِ دین میں اختصاص حاصل کرنا ہو، اُس کے لیے الگ مواقع تھے۔ جو کسی عصری علم میں اختصاص حاصل کرنا چاہتا تھا، اُس کے لیے مواقع الگ تھے۔

گزشتہ سال میں اور برادرم معظم حضرت مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب مراکش میں تھے۔ میں نے پچھلے سال دیکھا تھا اور حضرت نے اِس سال اُس کی زیارت کی۔ مراکش کو انگریزی میں ’’موروکو‘‘ کہتے ہیں، اُس کا ایک شہر ہے جس کا نام ’’فاس‘‘ ہے۔ میں ’’فاس‘‘ کے شہر میں پچھلے سال گیا تھا اور اِس سال حضرت بھی تشریف لے گئے تھے۔ وہاں ’’جامعۃ القرویین‘‘ کے نام سے ایک جامعہ آج تک کام کررہی ہے۔ اگر ہم اسلامی تاریخ کی مشہور اسلامی جامعات کا جائزہ لیں تو چار بنیادی اسلامی جامعات ہماری تاریخ میں نظر آتی ہیں۔ اُن میں سب سے پہلی مراکش کی جامعہ ’’القرویین‘‘ ہے۔ دوسری تیونس کی جامعہ ’’زیتونہ‘‘ ہے۔ تیسری مصر کی ’’جامعۃ الازہر‘‘ ہے اور چوتھی ’’دارالعلوم دیوبند‘‘ ہے۔ تاریخی ترتیب اسی طرح ہے۔

اس میں سب سے پہلی اسلامی یونیورسٹی جو مراکش کے شہر ’’فاس‘‘ میں قائم ہوئی، تیسری صدی ہجری کی جامعہ ہے۔ ابھی تک ایسی کوئی ترتیب میرے سامنے نہیں آئی کہ یہ صرف عالم اسلام ہی کی نہیں، بلکہ دنیا کی قدیم ترین یونیورسٹی ہے۔ اس تیسری صدی یونیورسٹی کے بارے میں اُس کی تاریخ کے کتابچے میں یہ بات لکھی ہوئی کہ اُس وقت جامعۃ القرویین میں جو علوم پڑھائے جاتے تھے اُن میں اسلامی علوم، تفسیر، حدیث، فقہ اور اس کے ساتھ ساتھ طب، ریاضی، فلکیات جنہیں ہم آج عصری علوم کہتے ہیں، وہ سارے علوم پڑھائے جاتے تھے۔ ابن خلدونؒ، ابن رُشدؒ، قاضی عیاضؒ اور ایک طویل فہرست ہمارے اکابر کی ہے جنہوں نے جامعۃ القرویین میں درس دیا۔ اُن کے پاس یہ تاریخ آج بھی محفوظ ہے کہ یہ وہ جگہ ہے جہاں ابن خلدونؒ درس دیا کرتے تھے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں ابن رُشدؒ درس دیا کرتے تھے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں قاضی عیاضؒ نے درس دیا ہے۔ یہاں ابن عربی مالکیؒ نے درس دیا ہے۔ تاریخ کی یہ ساری باتیں اُن کے پاس آج بھی محفوظ ہیں۔ یہ دنیا کی قدیم ترین یونیورسٹی ہے، اس لحاظ سے کہ چھوٹے چھوٹے مدارس تو ہر جگہ ہوں گے، لیکن جامعۃ القرویین ایک یونیورسٹی کی حیثیت رکھتی تھی جس میں تمام دینی اور عصری علوم پڑھائے جاتے تھے۔

اس یونیورسٹی میں آج بھی تیسری اور چوتھی صدی کی سائنٹفک ایجادات کے نمونے رکھے ہیں۔ اُس زمانے میں اسی جامعۃ القرویین سے فارغ لوگوں نے جو ایجادات گھڑی وغیرہ کی کیں، اُن ایجادات کے نمونے بھی وہاں پر موجود ہیں۔ آپ تیسری صدی ہجری تصورکیجیے۔ یہ تیسری صدی ہجری کی یونیورسٹی ہے۔ اس میں اسلامی علوم کے بادشاہ بھی پیدا ہوئے

اور وہیں سے ابن رُشد فلسفی بھی پیدا ہوا اور وہیں سے بڑے بڑے سائنسدان بھی پیدا ہوئے۔ ہوتا یہ تھا کہ دین اسلام کا فرضِ عین علم سب کو اکٹھا دیا جاتا تھا۔ اُس کے بعد اگر کوئی علمِ دین میں تخصصات حاصل کرنا چاہتا تھا تو وہ اسی جامعۃ القرویین میں علم دین کی درس گاہوں میں پڑھتا۔ اگر کوئی ریاضی پڑھانے والا ہے تو وہ ریاضی بھی وہاں پڑھا رہا ہوتا۔ اگر کوئی طب پڑھانے والا ہے تو وہ طب بھی وہاں پڑھا رہا ہوتا۔ یہ سارا کا سارا نظام اس طرح چلا کرتا تھا۔ جامعۃ القرویین کی طرح جامعہ زیتونہ تیونس اور جامعۃ الازہر مصر کا نظامِ تعلیم بھی رہا۔ یہ تینوں یونیورسٹیاں ہمارے قدیم ماضی کی ہیں۔ ان میں دینی اور عصری تعلیم کا سلسلہ اس طرح رہا۔

اس میں آپ یہ بھی دیکھیں گے کہ اگر قاضی عیاضؒ جو حدیث اور سنت کے امام ہیں، اُن کا حلیہ دیکھا جائے اور ابن خلدون جو فلسفہ تاریخ کے امام ہیں، ان کا حلیہ دیکھا جائے، دونوں کو دیکھنے میں کوئی فرق نظر نہیں آتا تھا کہ یہ دین کا عالم ہے اور وہ دنیا کا عالم ہے۔ دونوں کا حلیہ، لباس، ثقافت، طرزِ زندگی، طرزِ کلام سب یکساں تھا۔ اگر آپ مشہور اسلامی سائنسدان فارابی، ابن رُشد، ابوریحان البیرونی ان سب کا حلیہ دیکھیں اور جو محدثین، مفسرین اور فقہاء پیداہوئے اُن کا حلیہ دیکھیں، دونوں کا حلیہ ایک جیسا نظر آئے گا۔ اگر وہ نماز پڑھتے تھے تو یہ بھی نماز پڑھتے تھے۔ اگر اُن کو نماز کے مسائل معلوم تھے تو اِن کو بھی معلوم تھے۔ اگر اُن کو روزے کے مسائل معلوم تھے تو اِن کو بھی معلوم تھے۔ بنیادی اسلامی تعلیمات جو ہر انسان کے ذمے فرضِ عین ہیں، اُس دور میں ہر انسان جانتا تھا اور اس یونیورسٹی میں اُس کو پڑھایا جاتا تھا۔۔ تفریق یہاں سے پیداہوئی کہ انگریز نے آکر باقاعدہ سازش کے تحت ایک ایسا نظامِ تعلیم جاری کیا کہ اس سے دین کو دیس نکالا دے دیا گیا۔ اُس وقت ہمارے اکابرین مجبور ہوئے کہ وہ مسلمانوں کے دین کے تحفظ کے لیے کم از کم جو فرضِ کفایہ ہے، اُس کا تحفظ کریں۔ اُنہوں نے دارالعلوم دیوبند قائم کیا جس نے الحمدللہ! وہ خدمات انجام دیں جس کی تاریخ میں نظیر ملنامشکل ہے، لیکن یہ ایک مجبوری تھی۔ اصل حقیقت وہ تھی جو جامعۃ القرویین میں تھی، جو جامعہ زیتونہ میں تھی، جو جامعۃ الازہر کے ابتدائی دور میں تھی۔ اصل حقیقت وہ تھی۔ اگر پاکستان صحیح معنی میں اسلامی ریاست بنتا اور صحیح معنی میں اس کے اندر اسلامی احکام کا نفاذ ہوتا تو پھر اُس صورت میں ہمیں بقول حضرت والد ماجدؒ کے نہ علیگڑھ کی ضرورت تھی، نہ ندوہ کی ضرورت تھی، نہ دارالعلوم دیوبند کی ضرورت تھی، ہمیں جامعۃ القرویین کی ضرورت ہے، جامعہ زیتونہ کی ضرورت ہے اور ایسی یونیورسٹی کی ضرورت ہے جس میں سارے کے سارے علوم اکٹھے پڑھائے جائیں۔ سب دین کے رنگ میں رنگے ہوئے ہوں، چاہے وہ انجینئر ہو، چاہے وہ ڈاکٹر ہو، چاہے کسی بھی شعبۂ زندگی سے وابستہ ہو، وہ دین کے رنگ میں رنگا ہوا ہو، لیکن ہم پر ایسا نظامِ تعلیم لاد دیا گیا جس نے ہمیں سوائے ذہنی غلامی کے سکھانے کے اور کچھ نہیں سکھایا۔ اُس نے ہمیں غلام بنایا۔ اکبر الٰہ آبادی نے صحیح کہا تھا ؎

اب علیگڑھ کی بھی تم تمثیل لو
اب معزز پیٹ تم اُس کو کہو

صرف پیٹ بھرنے کا ایک راستہ نکالنے کے لیے انگریز یہ نظامِ تعلیم لایا اور اُس کے نتیجے میں مسلمانوں کی پوری تاریخ اور پورا ورثہ تباہ کردیا گیا۔

نتیجہ یہ کہ آج اس نئے نظامِ تعلیم کے ذریعے زبردست دو فرق واضح طو رپر سامنے آئے ہیں۔ ایک یہ کہ موجودہ تعلیمی نظام میں اسلامی تعلیم کے نہ ہونے کی وجہ سے فرضِ عین کا بھی معلوم نہیں۔ اسکول، کالج اور یونیورسٹی کے اکثر طالب علم جانتے ہی نہیں ہیں کہ دین میں فرض کیا ہے؟ دوسرے اُن کے اوپر افکار مسلط کردیے گئے ہیں کہ اگر عقل اور ترقی چاہتے ہو تو تمہیں مغرب کی طرف دیکھنا ہوگا۔ تیسری ان کی ثقافت بدل دی گئی۔ ان کے ذہن میں یہ بات بٹھادی گئی کہ اگر اس دنیا میں ترقی چاہتے ہو تو صرف مغربی اَفکار میں ملے گی، مغربی ماحول میں ملے گی، مغربی انداز میں ملے گی۔ افسوس یہ ہے کہ اس نئے نظامِ تعلیم سے جو گریجویٹس، ڈاکٹرز یا پروفیسرز بن کر پیدا ہوتے ہیں، وہ ہم جیسے طالب علموں پر تو روز تنقید کرتے ہیں کہ ان لوگوں نے اجتہاد کا دروازہ بند کردیا، یہ اجتہاد نہیں کرتے۔ قرآن و سنت اور فقہ میں ’’اجتہاد‘‘ ایک عظیم چیز تھی، لیکن ایک ایسی چیز جس میں اجتہاد کا دروازہ چاروں طرف چوپٹ کھلا ہوا تھا، وہ تھی سائنس اور ٹیکنالوجی، ریاضی، علومِ عصریہ اس میں تو کسی نے اجتہاد کا دروازہ بند نہیں کیا۔ علیگڑھ کے اور اس نئے نظامِ تعلیم کے ذریعے آپ نے کیوں ایسے مجتہد پیدا نہیں کیے جو مغرب کے سائنسدانوں کا مقابلہ کرتے۔ اُس میں آپ نے کیوں ایسے مجتہد پیدا نہیں کیے جو اجتہاد کرکے طب، فلکیات، ریاضی، سائنس وغیرہ میں نئے راستے نکالتے۔ اجتہاد کا دروازہ جہاں چوپٹ کھلا تھا وہاں کوئی اجتہاد کیا ہی نہیں، اور جہاں قرآن و سنت کی پابندی ہے اور قرآن و سنت کی حدود کے اندر رہتے ہوئے اجتہاد کرنا ہوتا ہے، وہاں شکایت ہے کہ علمائے کرام اجتہاد کیوں نہیں کرتے؟

ابھی کچھ دن پہلے کسی صاحب نے ایک کلپ بھیجا جس میں ایک عالم دین سے یہ سوال کیا جارہا تھا کہ مولانا! یہ بتائیے کہ علمائے کرام کی خدمات ویسے اپنی جگہ ہے، لیکن یہ کیا بات ہے کہ علمائے کرام میں کسی طرف سے بھی کوئی سائنسدان پیدا نہیں ہوا، کوئی ڈاکٹر پیدا نہیں ہوا، کسی بھی طرح کی ایجاد نہیں ہوئی، اس کا علمائے کرام کے پاس کیا جواب ہے؟ بندئہ خدا! یہ سوال تو آپ اپنے آپ سے کرتے کہ ہمارے نظامِ تعلیم میں کوئی ایسا مجتہد پیدا ہوا جس نے کوئی نئی ایجاد کی ہو؟ لیکن وہاں تو اجتہاد کے دروازے اس طرح بند ہیں کہ جو انگریز نے کہہ دیا، مغرب نے کہہ دیا بس وہ نظریہ ہے، اُس نے جو دواء بتادی وہ دواء ہے، اُس نے اگر کسی چیز کے بارے میں کہہ دیا کہ یہ صحت کے لیے مضر ہے تو اس کی اقتداء کرتے ہیں۔ انڈے کی زردی کے بارے میں سالہاسال سے کہا جارہا تھا کہ یہ کولیسٹرول پیدا کرتی ہے اور امراضِ قلب میں مضر ہوتی ہے، لیکن آج اچانک ہر ڈاکٹر یہ کہہ رہا ہے کہ انڈے کی زردی کھائو، اس سے کچھ نہیں ہوتا۔ کیوں؟ اس لیے کہ مغرب سے یہ پیغام آگیا ہے، اُسے آپ نے قبول کرلیا ہے۔

ہمارے ملک میں بے شمارجڑی بوٹیاں لگی ہوئی ہیں، اُس پر آپ نے کبھی تحقیق کی ہوتی، اُس سے آپ نے کوئی نتیجہ نکالا ہوتا کہ فلاں جڑی بوٹی ان امراض کے لیے فائدہ مند ہوتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کلونجی کے فوائد بیان فرمائے تھے، اُس پر کوئی تحقیق کی ہوتی۔ وہاں تو اجتہاد کا دروازہ ٹوٹل بند ہے اور اُس میں کوئی تحقیق کا راستہ نہیں، اور جو قرآن و سنت کی بات ہے اُس میں اجتہاد کا مطالبہ ہے۔ یہ ذہنی غلامی کا نظام ہے جس نے ہمیں اس نتیجے تک پہنچایا۔ دوسرا یہ کہ تصورات بدل گئے۔ پہلے علم کا تصور ایک معزز چیز تھی جس کا مقصد معاشرے اور مخلوق کی خدمت تھی، یہ اصل مقصود تھا۔ اس کے تحت اگر معاشی فوائد بھی حاصل ہوجائیں تو ثانوی حیثیت رکھتے تھے، لیکن آج معاملہ الٹا ہوگیا، علم کا مقصد صرف پیسہ کمانا ہے۔ علم کا مقصد یہ ہے کہ اتنا علم حاصل کرو کہ لوگوں کی جیب سے زیادہ سے زیادہ پیسہ نکال سکو۔ تمہارا علم اس وقت کارآمد ہے کہ جب تم لوگوں کے مقابلے میں زیادہ سے زیادہ پیسہ کماسکو۔ آپ دیکھیں کہ موجودہ دور میں کتنے لوگ پڑھ رہے ہیں اور گریجویشن کررہے ہیں، ماسٹر ڈگریاں لے رہے ہیں، قسما قسم کی ڈگریاں حاصل کررہے ہیں، اُن کے ذہن سے پوچھا جائے کہ کیوں پڑھ رہے ہو؟ وہ کہیں گے کہ اس لیے پڑھ رہے ہیں کہ کیریئر اچھا ہو، اچھی ملازمتیں ملیں، پیسے زیادہ ملیں۔ تعلیم کی ساری ذہنیت بدل کر یہ تبدیلی کردی کہ علم کا مقصد پیسہ کمانا ہے۔ عالم حاصل کرکے معاشرے یا مخلوق کی کوئی خدمت انجام دینی ہے، اس کا کوئی تصور اس موجودہ نظامِ تعلیم میں نہیں ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہر شخص پیسے کمانے کی دوڑ میں مبتلا ہے اور اُس کو نہ وطن کی فکر ہے، نہ ملک و ملت کی فکر ہے اور نہ مخلوق کی خدمت کرنے کا کوئی جذبہ اُس کے دل میں پیدا ہوتا ہے۔ وہ دن رات اسی دوڑ دھوپ میں مگن ہے کہ پیسے زیادہ بننے چاہیے۔ اُس کے لیے چوری، ڈاکہ، رشوت و ستانی وغیرہ کے ناجائز ذرائع بھی استعمال کرتا ہے۔

یہ بتائیے! موجودہ نظامِ تعلیم کے تحت جو لوگ یہاں تیار ہورہے ہیں، انہوں نے مخلوق کی کتنی خدمت کی؟ کتنے لوگوں کو فائدہ پہنچایا؟ ہمیں تو پیغمبر انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا تلقین فرمائی تھی: ’’اَللّٰھُمَّ لَاتَجْعَلِ الدُّنْیَا أَکْبَرَ ھَمِّنَا وَلَا مَبْلَغَ عِلْمِنَا وَلَا غَایَتَ رَقْبَتِنَا‘‘… ’’یااللہ! دنیا کو ہمارے لیے نہ تو ایسا بنائیے کہ ہمارا ہر وقت دھیان دنیا ہی کی طرف رہے اور نہ ہمارے علم کا سارا مَبلغ دنیا ہی ہوکر رہ جائے، اور نہ ہماری ساری رغبتوں اور شوق کا مرکز دنیا ہوکر رہ جائے۔‘‘ لیکن اس نظامِ تعلیم نے کایا پلٹ دی۔

حضرت والا ماجد مفتی محمد شفیع صاحبؒ نے جو بات فرمائی تھی اُس کا منشاء یہ تھا کہ انگریز کی غلامی کے بعد جو تعلیم کی کایا پلٹی گئی ہے، اُس کایا کو دوبارہ پلٹ کر اُس راستے پر چلیں جو راستہ جامعۃ القرویین نے دکھایا، جو جامعہ زیتونہ نے دکھایا، جو ابتدائی دور میں جامعۃ الازہر نے دکھایا۔ میں ابتدائے دور کی بات اس لیے کررہا ہوں کہ آج جامعہ ازہر کی بھی کایا پلٹ چکی ہے، اسی لیے ابتدائی دور کی بات کررہا ہوں۔ ہمارے یہاں حکومتی سطح پر وہ نظام تعلیم نافذ نہیں ہوسکا، لہٰذا مجبوراً کم از کم دارالعلوم دیوبند کے نظام کا تحفظ تو ہو۔ الحمدللہ! اسی غرض سے مدارس قائم ہوئے۔ جب تک ہمیں حکمرانوں او رنظامِ حکومت پر اور اُن کے بنائے ہوئے قوانین پر بھروسہ نہیں ہے اور نہ مستقبل قریب میں کوئی بھروسہ ہونے کی امید ہے، اس لیے اُس وقت تک ہم اِن مدارس کا پورا تحفظ کریں گے۔ مدارس کو اسی طرح برقرار رکھیں گے جس طرح ہمارے اکابر نے دیوبند کی طرح برقرار رکھا۔ اس کے اوپر ان شاء اللہ کوئی آنچ بھی نہیں آنے دیں گے، لیکن ہم چاہتے ہیں کہ رفتہ رفتہ یہ قوم اُس طرف بڑھے جو ہمارا ابتدائی مطمح نظر تھا۔ اسی سلسلے میں حرا فائونڈیشن کی یہ چھوٹی سی پریذینٹیشن تھی۔

اس میں رئیس الجامعہ کا چھوٹا سا خطاب تھا اور میں بھی اسے ہر جگہ بیان کرنے کی کوشش کرتا ہوں کہ الحمدللہ! پاکستان میں دینی مدارس کی تعداد بقدرِ ضرورت اچھی خاصی ہوگئی، لیکن سارے مدارس فرضِ کفایہ کی تعلیم دے رہے ہیں۔ اگر ان مدارس میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے آنے والوں کا تناسب پورے ملک کے حساب سے دیکھا جائے تو مشکل سے ایک فیصد ہوگا، لیکن ننانوے فیصد قوم جن اداروں میں جارہی ہے اور جس طرح وہ انگریزوں کی ذہنی غلام بن رہی ہے، اس تعداد کا آپ بخوبی اندازہ لگاسکتے ہیں۔

میں یہ بات کئی مرتبہ کہہ چکا ہوں اور کہتا رہتا ہوں کہ آپ کا اصل مقصد یہ ہے کہ خدا کے لیے ہماری اس نسل کو اس انگریز کی ذہنی غلامی سے نکالیے۔ آپ کو یہ تاثر دینا ہے کہ الحمدللہ! ہم ایک آزاد قوم ہیں، ہم ایک آزاد سوچ رکھتے ہیں، ہم اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سوچ رکھتے ہیں اور یہ جو ذہنی غلامی کا تصور پالا گیا ہے کہ جو کچھ ہوگا وہ مغرب سے آئے گا اور ہم مغربی افکار پر پروان چڑھیں گے، خدا کے لیے اس نئی نسل کے ذہنوں سے یہ چیز مٹائیے اور ان کے اندر اسلامی ذہنیت پیدا کیجیے۔ ہم نے اسی مقصد کے لیے یہ ادارہ قائم کیا۔ مغرب کی بھی ہر بات بری نہیں ہے، کچھ چیزیں اچھی بھی ہیں، لیکن اُن اچھی چیزو ںکو لے لو اور بری چیزوں کو پھینک دو، ’’خُذْ مَاصَفا وَدَعَ ماکدر‘‘ اس اصول کے اوپر اگر کام کیا جائے تو ان شاء اللہ ہم منزل تک پہنچ جائیں گے۔

اقبال مرحوم نے بعض اوقات ایسے حسین تبصرے کیے ہیں کہ وہ قوم کے لیے مشعل راہ ہیں۔ مغرب کی ترقی جو کہیں سے کہیں پہنچی ہے اُس پر تبصرہ کرتے ہوئے چند شعر کہے ہیں، وہ ہمیشہ یاد رکھنے کے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ؎

قوتِ مغرب نہ از چنگ و رباب
نے ز رقصِ دخترانِ بے حجاب

چنگ و رباب یعنی موسیقی کے آلات۔ مغرب کی قوت اس لیے نہیں ہوئی کہ وہاں موسیقی کا بڑا رواج ہے، نہ اس وجہ سے ہوئی کہ بے حجاب اور بے پردہ عورتیں رقص کرتی ہیں۔

نے ز سحر ساحران لالہ روست
نے ز عریاں ساق و نے ز قطع موست .

نہ اس وجہ سے ہوئی کہ وہاں حسین عورتیں بہت پھرتی ہیں اور نہ اس وجہ سے کہ انہوں نے اپنی ٹانگیں ننگی کر رکھی ہیں اور اپنے بال دراز کر رکھے ہیں۔

قوتِ مغرب از علم و فن است
از ہمیں آتش چراغش روشن است

قوت اگر ہوئی ہے تو علم و فن میں محنت کرنے کی وجہ سے ہوئی ہے۔ اسی آگ سے اُس کا چراغ روشن ہے۔ اور پھر آخر میں بڑا خوبصورت شعر کہا ہے کہ

حکمت از قطع و برید جامہ نیست
مانع علم و ہنر عمامہ نیست

یعنی حکمت و علم کپڑوں کی قد و برید یا تراش و خراش سے حاصل نہیں ہوتا۔ کسی نے پتلون پہن لی تو ترقی یافتہ اور تعلیم یافتہ ہوگئے۔ اگر شلوار قمیص پہن لی تو پسماندہ ہیں، ترقی پسند نہیں ہیں۔ اگر عمامہ پہن لیا تو اُس سے علم و ہنر میں کوئی رکاوٹ پیدا نہیں ہوتی، لیکن تم نے چند جواہر کو یہ سمجھا ہوا ہے کہ مغرب کو اُس سے قوت حاصل ہوئی ہے اور اُس کے نتیجے میں اپنی نسلوں کو اُس کے پیچھے چلاکر تباہ کررہے ہو، لہٰذا اس سے اپنے آپ کو بچائیں۔۔
Posted via the Muftisays Android App
report post quote code quick quote reply
Like x 2
Maripat
Rank Image
Maripat's avatar
Offline
Joined:
27th Mar 2014
Longevity:
0%
Location:
Unspecified
Posts:
1101
Gender:
Brother
Reputation:
1438
#48 [Permalink] Posted on 28th April 2017 08:04
Umm Khadeejah wrote:
View original post


In the next post Inshaaa Allah Al-Aziz.

Muadh_Khan wrote:
View original post


I made an intention to take this into consideration last year itself. I assure my brothers and sisters that I have not taken rest even for a moment and yet I have not got time to do the needful. Soon Inshaa Allah I shall do so.
report post quote code quick quote reply
No post ratings
Maripat
Rank Image
Maripat's avatar
Offline
Joined:
27th Mar 2014
Longevity:
0%
Location:
Unspecified
Posts:
1101
Gender:
Brother
Reputation:
1438
#49 [Permalink] Posted on 6th May 2017 17:02
10
Maulana Abul Kalam Azad and Maulana Hussain Ahmed Madani RA on Pakistan


In his longish lecture entitled Nijat Ki Rah Dr Israr Ahmed Sahab RA in the end told about final words of Maulan Azad and Maulana Madani RA about Pakistan.

Maulana Azad said that I had most serious disagreement with the creation of the state of pakistan but once it has come into existence then honour of Islam is associated with its future.

Dr Israr Ahmed also informed about Hazrat Madani RA's final attitude. In a function in Dabhel Maulana Madani had said that before a Masjid is constructed there can be argument about the legality of the land and construction buit once it is bulit then a Mosque is a Mosque and it is the duty of every Muslim to ensure its protection.

This was told publicly by Maulana Muhammed Malik Kadhalwi RA in a function of Tanzeem-e-Islami or Majlis-e-Khuddam-ul-Qur'an in Lahore after partition in presence of Dr Israr Ahmed.

In view of these two views I have decided not to question the creation of Pakistan just because the bill has come to us Indian Muslims.
report post quote code quick quote reply
Winner x 2
Maripat
Rank Image
Maripat's avatar
Offline
Joined:
27th Mar 2014
Longevity:
0%
Location:
Unspecified
Posts:
1101
Gender:
Brother
Reputation:
1438
#50 [Permalink] Posted on 9th May 2017 09:05
Umm Khadeejah wrote:
View original post


Quote:
Bismillah

Can you give some practical tips on how we can achieve this?
This will inshaaAllah help others who can contribute in one way or the other.

wassalam


I am sorry that above quoted post of sister has been hanging in balance for so long.
As it must be clear to brothers and sisters I am busy all the time in these issues only and therefore hardly get anytime to address many specific points because of the shear load of the work and my own limited capacity and capabilities. Anyway, I thought I should address this query before it get burried in the tons of material.

Sister has asked about practical steps to address the problem.

So to begin with what is the problem we are trying to solve?
This is an important question because asking the right question is the first step towards solving the problem.
Sometimes asking the question in the right manner itself takes us half way towards the solution.
Sometimes asking the wrong question kills the prospects of solving the problem.

In the present case I shall put the problem in the following manner. I have been calling it the Encroachment Theory.

The Encroachment Theory


If you do not guard, defend and protect your personal space as an individual or your collective space as a community then there is bound to be encroachment upon it.

In todays world there is encroachment upon the life space of Muslim community, Muslim Ummah, in various degrees all over the world. In some cases the encroachment is partial in some cases it is near complete.

We, as an Ummah, have to work towards liberation of this life space of Muslim Ummah from encroachment.

After pondering over this problem and analysing it for about twelve years I have come to the conclusion that our approach should be academic. Or that is the only sector in which I can contribute meaningfully.

I have nothing to say or offer about other possible approaches. I am not against them nor I am for them. In fact I even do not know what other approaches are possible.

Next I shall divide the problem into two parts global problem and the problem in the Indian subcontinent.

The Global Problem of Muslim Ummah


At the global level the encroachment is mostly because of the west.
In west we must include the Europe, the US in particular and North America in general and finally Australia.

We have to start an academic dialogue with the west towards taking back our space that is in their control.

Please understand that no other party, in this case, will accept our theory because it shows themm in a negative light of the encroachers. We have to think seriously and give the problem some other name so that we can come to the academic negotiating table with the west.

Brothers and and sisters and well wishers must kindly pay attention to it.

Easiest way to sabotage this programme is to go to the west, in any possible manner, and say, "Buster you have encroached upon the life space of our Ummah, just hand over it back." This will be a wrong way to approach.

We got to find the speakable and unspeakable in this case and then we have to find the channel and the negotiating parties.

My suggestion in this regard will be to approach people like German Chancellor Angela Merkel and Canadiam PM Justin Trudeau. Responsible people from Ummah must approach them about this encroachment and negotiate about a plan to hand over our personal, or rather communal, space to us.

We need academicians to work out the details.
Those academicians are the people that I am searching for and looking forward.
Someone has to find them, some people have to come forward.
These people should be experts in the corresponding fields.
There should be diplomats to negotiate, social scientists who know about the encroachment and other academicians like economists, lawyers and others.

There has to be an academic movement along these lines amongst the Muslims world over.

My role model in this case will be the Indian Freedom Movement that was lead by the lawyers like Gandhi, Nehru and there were many Muslims too in that.

Historically Indian Freedom Movement (IFM) was amongst biggest mass movement in the world history.
Historians, particularly the left orinted ones, are still trying to take stock of it.
We have to generate an academic movement of bigger proportions towards liberating the communal space of Muslim Ummah from encroachment.

Quote:
The Problem of Muslim Ummah in the Indian Subcontinent


This has to be further divided into three parts: Pakistan, India, Bangladesh.

All the three problems are different. Pakistan's problem has to be attached to the global problem that I talked about above.

Indian problem is the main one and has to be dealt with separately.

Bangladesh problem is different from those of India and Pakistan.

I shall not talk about the Indian problem here. I just want to say and finish whatever I can talk about global problem, Pakistan's problem and Bangladesh problem and after that not look back and concentrate on Indian problem.

When brothers and sisters understand what I have to say about the global, Pakistan and Bangladesh problems then I want to detach from you people in the sense that most of my energies will be focussed on Indian problem and I shall be interaction with you people all the time but as an academician specializing on Indian issues.

The Pakistan Problem


Pakistan is a state that was created in the name of Islam. Wtherther they like it or not, whether they feel like being capable of it or not,they have the responsibility of Ummah on their shoulders. They have to realize that by default they are the Ummah leaders even more than Saudi Arab and Turkey.

Maulana Syed Abul hasan ali Nadwi (RA) was a Syed, from prophet (PBUH)'s family, and hence he had a e-weakness for the Arabs. Hence he kept looking towards the Arabs to rise and solve the problems of Ummah.

Thinking people of pakistan, those who have concerns for Ummah, must realise that this is not going to happen.
If it happens that the Arabs get up and work towards solving the problems of the Ummah then welcome them and cooperate with them but do not wait for them.

Get up yourself and take the lead. Ummah is waiting for you. Stop playing a slave to the US, living and surviving on their dole and selling the Ummah for few dollars.

The Bangladesh Problem


Bangladesh Bengalis are trying to come out of the Muktibahini mindset. Someone from ummah has to help them in it. We Muslims of India are in deepest waters, after the destruction of the Gulf Muslim countries, and hence will be not in a position to help them. Bangladeshis will take a long time to calm down about Pakistanis so pakistanis too are out. Perhaps malay and Indonesian Muslims are the best bet to make Bengladeshis self reliant and not get trivialized by the big neighbour surrounding them - India.

As I said above I am leaving out the India problem here because that is the most complex and most difficult of the problems and it will need my long and undivided attention an sitting in India it is my top priority to worry about the problems of Indian Muslims.

Some additonal Thoughts


I have been thinking about these issues ever since I came to the erstwhile Sunni Forum. Sunni Forum is gone and the activity on MS, MuftiSays is down to bare minimum but only now I feel relativel clrea about the problem and its solution that I have talked about. This for me is a good news because for all these twelve years I have been really working my way through a dark tunnel with effectively to light at the end. I mean theoretically or academically.

Many of my friends must have felt that I am going on and on and not giving any precise, concrete, specific action plan nor any hope and glad tidings. Truth be told I myself did not know the answer. By the grace of God I do have it now. there might be other answers but having gone through the excruciating pain myself I can assure you that the competing solution to my solution will be equally difficult and equally difficult to search for. I have worked for twelve years with concentration and focus and complete dedication and I expect not small reward from Lord Most High. I invite all my brothers and sisters to be with me. In case you have competing plans please do follow them and I have no grudges ahgainst you, I am your well wisher.

I intend to follow the Deoband explanation of islam but I inted to take help from and cooperate with barelwis as well as the salafis of all kind and Jama-at-e-Islami and similar people.

I am thankful to those brothers and sisters who have been patiently following me all these years who had shown their love and affection as well as regards. My journey would not have been possible without you. You may not realise it but Allah SWT will give you great rewards for this act itself because you were depositing your faith in me in those times when the going was most difficult. the rewards will be really great in the hereafter but I also do hope very good rewrds for us all in this world itself. By the Grace of Allah SWT.
report post quote code quick quote reply
Like x 2
Maripat
Rank Image
Maripat's avatar
Offline
Joined:
27th Mar 2014
Longevity:
0%
Location:
Unspecified
Posts:
1101
Gender:
Brother
Reputation:
1438
#51 [Permalink] Posted on 18th May 2017 06:27
Muadh_Khan wrote:
View original post


Quote:
The people of Pakistan may prosper and attain their rightful and honored place among the nations of the world and make their full contribution towards international peace and progress and happiness of humanity.


This item is just perfect as the motto of Muslim Ummah herself.

Muslim Ummah aspires to attain her rightful and honored place among the civilizations of the world and make their full contribution towards international peace and progress and happiness of humanity.
report post quote code quick quote reply
No post ratings
Maripat
Rank Image
Maripat's avatar
Offline
Joined:
27th Mar 2014
Longevity:
0%
Location:
Unspecified
Posts:
1101
Gender:
Brother
Reputation:
1438
#52 [Permalink] Posted on 25th May 2017 16:59
report post quote code quick quote reply
abu mohammed
Rank Image
abu mohammed's avatar
Joined:
6th Oct 2008
Longevity:
28%
Location:
London
Posts:
18332
Gender:
Brother
Reputation:
4965
#53 [Permalink] Posted on 25th May 2017 17:17
It is a shame she speaks much truth! It is not even safe for the men there. However, her statement would apply to every nation as this happens all over the place, not just Pakistan.

Pakistan, a nation of decent people tarnished by a few idiots who carry out such acts, including selling of dog and donkey meat as Halal meat to their own Muslim brothers and sister.

Another story against Muslims we have to put up with.
report post quote code quick quote reply
Agree x 1
bint e aisha
Rank Image
bint e aisha's avatar
Offline
Joined:
7th Feb 2017
Longevity:
0%
Location:
Unspecified
Posts:
95
Gender:
Sister
Reputation:
51
#54 [Permalink] Posted on 25th May 2017 21:19
report post quote code quick quote reply
Maripat
Rank Image
Maripat's avatar
Offline
Joined:
27th Mar 2014
Longevity:
0%
Location:
Unspecified
Posts:
1101
Gender:
Brother
Reputation:
1438
#55 [Permalink] Posted on 26th May 2017 06:29
The present Indian government is hell bent on improving the lot of Indian Muslim women.
A few days ago the goons stopped a car shot the lone man in it and all night gang raped the four Muslim women in it near Yamuna Expressway.
report post quote code quick quote reply
No post ratings
Maripat
Rank Image
Maripat's avatar
Offline
Joined:
27th Mar 2014
Longevity:
0%
Location:
Unspecified
Posts:
1101
Gender:
Brother
Reputation:
1438
#56 [Permalink] Posted on 26th May 2017 07:51
report post quote code quick quote reply
Umm Khadeejah
Rank Image
Offline
Joined:
22nd Mar 2017
Longevity:
0%
Location:
Unspecified
Posts:
42
Gender:
Sister
Reputation:
35
#57 [Permalink] Posted on 27th May 2017 12:37
Maripat wrote:
View original post

Bismillah
JazaakumAllahu khaira for your detailed reply. I am sure it will help many.
Other than lawyers and social scientists, how can other educated people help?
In fact I was expecting a reply for a tyro like me who is not a lawyer or a social scientist. It would nice if seniors like you can give some practical tips in engaging in fruitful conversation with non-Muslims. I don't have any exposure to it. Any advice on how and where to start?
wassalam
report post quote code quick quote reply
Like x 1
Maripat
Rank Image
Maripat's avatar
Offline
Joined:
27th Mar 2014
Longevity:
0%
Location:
Unspecified
Posts:
1101
Gender:
Brother
Reputation:
1438
#58 [Permalink] Posted on 13th June 2017 13:22
I want to use this post by Parvez Hoodbhuy to comment on related issues.
report post quote code quick quote reply
No post ratings
Back to top Post New Topic